Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 255

By Maulana Wahiduddin Khan

مجھے گانا تھا وہ میں نہ گا سکا۔ ایسا ہی کچھ حال میرا بھی ہے۔ جب بھی میں کوئی کتاب تیار کرتا ہوں تو وہ مجھے ناکافی معلوم ہوتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جو بات کہنی تھی وہ کہنے سے رہ گئی۔ کوئی کتاب بھی جو میں نے لکھی ہے وہ مجھے اپنی نظر میں ایسی نہیں لگتی کہ مجھے جو کچھ کہنا تھا وہ میں نے کہہ دیا۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ حقیقت کے مقابلے میں تمام الفاظ محدود ہیں۔ جس شخص کو حقیقت کا ادراک ہوتا ہے اس کو حقیقت کے مقابلے میں اپنے تمام الفاظ محدود و نظر آنے لگتے ہیں۔ وہ اپنے ذخیرہ کے تمام الفاظ کو استعمال کر کے بھی محسوس کرتا ہے کہ حقیقت بیان ہونے سے رہ گئی۔ ۱۳ اپریل ۱۹۸۳ مولانا آزاد سبحانی (م ۱۹۵۷ء) کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کا مشن یہ ہے کہ وہ دنیا میں خلافت الہیہ کا نظام قائم کریں۔ اس کو وہ سب سے زیادہ اہم دینی فریضہ سمجھتے تھے۔ حتی کہ ان کا خیال تھا کہ جب بھی دو مسلمان آپس میں ملیں تو ان کو چاہئے کہ اس کی یاد تازہ کرنے کے لئے ایک دوسرے کو اس طرح سلام کریں: السلام علیکم ورحمتہ اللہ، نحن خلیفہ اللہ۔ مولانا آزاد سبحانی نے یہ نہیں سوچا کہ ”سلام“ ایک مسنون فعل ہے۔ اس لئے اس کا وہی طریقہ صحیح ہو سکتا ہے جو سنت رسول اور سنت صحابہ سے ثابت ہو۔ نظر یہ سازی آدمی کو سادہ حقیقتوں کو سمجھنے سے بھی محروم کر دیتی ہے۔ ۱۵ اپریل ۱۹۸۴ میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ میری محبوب چیزیں تین ہیں——گھڑی، قلم، اور مسواک۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ آج تک مجھے اپنی پسند کا قلم نہیں ملا۔ میں نے بے شمار ملکی اور غیر ملکی قلموں کا تجربہ کیا۔ حال میں وہ بلی سے کر اس (Cross) قلم منگوایا۔ مگر کوئی قلم میری پسند پر پورا نہیں اترتا۔ جان محمد صاحب (انگریز نو مسلم قلم کے بارہ میں میری دل چسپی کا حال جانتے تھے، وہ لندن سے دہلی آتے تو میرے لئے ایک قلم لائے۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے خاص طور پر تلاش کر کے آکسفورڈ کی ایک دکان سے اسے خریدا ہے۔ مگر اس کو بھی جب میں نے استعمال کیا تو وہ بھی میری پسند کے مطابق نہ تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page