ڈائری
Urdu book, p. 257
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک لفظ بھی نہیں بولے۔ ایک فرنیچر ساز کمپنی کی گاڑی سڑک پر آکر کھڑی ہوئی ۔ وہ اپنی کمپنی کا اشتہار کر رہی تھی۔ گاڑی کے اوپر جلی حرفوں میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے : We treat your furniture like our own ہم آپ کے فرنیچر کے ساتھ اپنے فرنیچر جیسا معاملہ کرتے ہیں۔ تاجر کی کامیابی اس میں ہے کہ وہ گاہک کو یقین دلات ہے کہ وہ اس کے معاملہ کو اپنا معاملہ سمجھتا ہے۔ وہ اس کو جو چیز دے گا اس طرح دے گا گویا کہ وہ خود اپنے گھر کے لئے وہ چیز فراہم کر رہا ہے۔ تاجر اور گاہک کے درمیان اس قسم کا اعتماد قائم ہونا تجارت کی کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ یہی معاملہ دعوت کا بھی ہے۔ دعوت کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ دائی اور مدعو کے درمیان گہرے اعتماد کی فضا قائم ہو جاتے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ قرآن میں پیغمبروں کی زبان سے اپنے مخاطبین کے لئے یہ کہلايا گیا ہے کہ : (انی لكم ناصح امین ( میں تمہارا خیر خواہ ہوں اور تمہارا امین ہوں ۔) ۱۹ اپریل ۱۹۸۴ ڈیل کارنیگی نے لکھا ہے : When we hate our enemies, we give them power over us - power over our sleep, our appetites and our happiness. They would dance with joy, if they knew how much they were worrying us. Our hate is not hurting them at all, but it is turning our own days and nights into hellish turmoil. جب ہم اپنے دشمنوں سے نفرت کرتے ہیں تو ہم ان کو اپنے اوپر غلبہ دے دیتے ہیں ، طلبا اپنی نیند پر، اپنی اشتہا اور اپنی خوشی پر۔ وہ خوشی سے ناچیں گے اگر وہ جان لیں کہ وہ ہم کو کتنا زیادہ پریشان کر رہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader