ڈائری
Urdu book, p. 258
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں۔ ہماری نفرت ان کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچاتی۔ البتہ وہ ہمارے دلوں اور راتوں کو جہنمِ عذاب میں تبدیل کر رہی ہے۔ دوسروں سے نفرت کرنا خود اپنے آپ سے نفرت کرنا ہے۔ اور دوسروں سے محبت کرنا خود اپنے آپ سے محبت کرنا۔ ۲۰ اپریل ۱۹۸۲ میری پوری زندگی میں سب سے زیادہ نمایاں طور پر جو چیز چھائی رہی وہ ہے غیر مصالحانہ رویہ (uncompromising attitude) اپنے رشتہ داروں کے ساتھ ، اپنے دوستوں کے ساتھ ، جماعت اسلامی ، ندوہ ، جمیعتہ علماء ، جس سے بھی میرا واسطہ پڑا ہر ایک کے ساتھ میرا رویہ غیر مصالحانہ رہا۔ اس غیر مصالحانہ رویہ کی مجھے بہت بھاری قیمت دینی پڑی۔ میری ہڈیاں پگھل گئیں اور میں قبل از وقت بوڑھا ہو گیا۔ میری زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ اگلے دن میں کیا کھاؤں گا اور اپنے بچوں کو کیا کھلاؤں گا۔ مگر میرا غیر مصالحانہ رویہ بدستور باقی رہا۔ مگر عجیب بات ہے کہ میرے بے شمار جاننے والوں میں سے کوئی ایک شخص بھی نہیں ہے جو یہ کہہ سکے کہ میں نے اس کو غیر مصالحانہ رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہو۔ میں نے خود ہمیشہ غیر مصالحانہ رویہ اختیار کیا۔ مگر دوسروں کو میں نے ہمیشہ یہ مشورہ دیا کہ تم مصالحت کا طریقہ اختیار کرو۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ جس چیز کو میں اپنے لئے صحیح سمجھتا تھا وہ میرے نزدیک دوسروں کے لئے غلط تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بے حد مشکل راستہ ہے۔ غالباً اس دنیا میں غیر مصالحانہ رویہ سے زیادہ دشوار اور کوئی کام نہیں۔ ۲۱ اپریل ۱۹۸۳ تصوف کی تاریخ لکھنے والے تصوف کی تاریخ کو دورِ تابعین سے شروع کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ابنِ سیرین تابعی (۱۱۰- ۳۳ھ) پہلے صوفی تھے۔ اسی طرح ابو حازم (م ۱۴۰ھ) فضیل بن عیاض (م ۱۸۷ھ) بشر حافی (م ۲۲۷ھ) وغیرہ۔ مگر ان لوگوں کا "تصوف" صرف یہ تھا کہ وہ زہد میں غلو کرتے تھے اور دنیوی چیزوں سے الگ رہنا پسند کرتے تھے۔ اس کے بعد تصوف کی فہرست میں جن لوگوں کا نام لیا جاتا ہے ان میں سے مثلاً ذوالنون مصری (م ۲۴۶ھ)،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader