Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 259

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں جنھوں نے قدم قرآن کا عقیدہ پیش کیا۔ بایزید بسطامی (م ۲۶۱ ھ) ہیں، جن کی طرف وحدت الوجود کا نظریہ منسوب کیا جاتا ہے۔ ابوسعید الخراز (م ۲۷۷ ھ) ہیں، جنھوں کے فتنا اور لقاء کے بارے میں بعض خیالات پیش کئے۔ منصور الحلاج (م ۳۰۹ ھ) ہیں جنھوں نے حلول کے نظریے کی تبلیغ کی۔ مگر اس قسم کے لوگوں کا تصوف بھی صرف یہ تھا کہ انہوں نے عقیدہ اور روحانیت کے سلسلے میں بعض نئی باتیں کہیں، یہ لوگ اپنے اپنے ذہن کے مطابق دین کی معنویت پر زور دے رہے تھے۔ وہ اس معنویت کے حصول کے لئے صوفیانہ طریقے پیش نہیں کرتے تھے۔ تصوف کا آغاز کرنے والے حقیقتاً وہ لوگ ہیں جنھوں نے روحانیت اور تعلق باللہ کے حصول کے لئے نئے طریقے وضع کئے، یہ لوگ دور اول میں موجود نہ تھے۔ متصوفین کو جو چیز دوسروں سے الگ کرتی ہے وہ صرف روحانیت کی باتیں نہیں ہیں۔ بلکہ دراصل وہ طریقے اور تدبیریں ہیں جو انہوں نے یہ کہہ کر وضع کئے کہ اس کے ذریعہ روحانی مقصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یا اس مقصد کو حاصل کرنے کا یہ زیادہ آسان اور قریبی طریقہ ہے۔ ۲۲ اپریل ۱۹۸۲ فریڈرک اعظم (Frederick the Great) کا قول ہے : A crown is merely a hat that lets the rain in. تاج صرف ایک ایسا ہیٹ ہے جو بارش کو اندر آنے دیتا ہے۔ ہیٹ عام آدمی کی ٹوپی ہے اور تاج بادشاہ کی ٹوپی۔ عام آدمی سے لوگوں کو کوئی جلن نہیں ہوتی۔ مگر جو شخص لوگوں کو اپنے سے بڑا دکھائی دے اس سے وہ جلنے لگتے ہیں۔ "ہیٹ" آدمی کو بارش سے بچاتا ہے، مگر "تاج" بارش کو دعوت دیتا ہے۔ زندگی میں شاید یہ سب سے بڑی برائی ہی جلن ہے۔ آدمی کی انانی کو اپنے سے اونچا دیکھنا نہیں چاہتی۔ اس لئے آدمی ہر اس شخص کا دشمن بن جاتا ہے جو ماحول میں اس سے اونچا درجہ حاصل کرلے۔ مگر یہ نہایت بے فائدہ حرکت ہے۔ جس شخص کو کوئی بڑائی ملتی ہے اس کو وہ خدا کے دئے سے ملتی ہے۔ ایسی حالت میں کسی کی بڑائی پر جلنا گویا خدا کی تقسیم پر اعتراض کرنا ہے۔ اور کسی کو اس کے مقام سے نیچے لانے کی کوشش کرنا گویا خدا کے کے کی نفی کرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ــــ خدا نے چاہا مگر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page