ڈائری
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
عراق نے ستمبر ۱۹۸۰ میں ایران (خوزستان) پر حملہ کیا تھا۔ اس کے بعد ایرانی لیڈر آیات اللہ روح اللہ خمینی نے اپنی ایک تقریر میں کہا: جرم ما این است که اسلام را می خواهیم ہمارا جرم یہ ہے کہ ہم اسلام کو چاہتے ہیں۔ مگر واقعات اس کی تردید کرتے ہیں۔ امام خمینی کو جب ایران پر غلبہ حاصل ہوا تو پہلا کام انھوں نے یہ کیا کہ اپنے مخالفین کو پکڑ کر قتل کرنا شروع کر دیا۔ حالاں کہ یہ اسلامی طریقہ کے سراسر خلاف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کہ پر غلبہ حاصل ہوا تو وہاں آپ کے سخت ترین دشمن اور مخالف موجود تھے۔ مگر آپ نے انھیں قتل کرنے کے بجائے انھیں معاف کر دیا۔ اس اسوہ رسول کے مطابق امام خمینی کو عمومی معافی کا اعلان کرنا چاہئے تھا نہ کہ عمومی قتل کا۔ امام خمینی کے ساتھی یہ کہتے ہیں کہ انقلاب کے بعد ایران میں جن لوگوں کو قتل کیا گیا وہ سب منافق تھے ۔ یہ اور زیادہ لغو بات ہے۔ کیوں کہ قرآن اور حدیث میں کہیں بھی حکم نہیں ہے کہ منافق کو قتل کر دو۔ قتل کا حکم مرتد کے لیے ہے نہ کہ منافق کے لیے۔ اگر یہ کہا جائے کہ امام خمینی نے جن لوگوں کو قتل کرایا وہ سب مرتد تھے تو یہ بھی سراسر لغوبات ہے۔ کیوں کہ مرتد وہ نہیں ہے جس کو کوئی مفتی مرتد کہے، مرتد وہ ہے جو خود اپنے ارتداد کا اعلان کرے۔ اور یہ یقینی ہے کہ ان لوگوں نے اپنے ارتداد کا اعلان نہیں کیا تھا۔ ۷ فروری ۱۹۸۳ ایک صحابی اصحاب رسول کی روش کے بارہ میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب ہم لوگ سفر میں ہوتے تھے اور کسی منزل پر پڑاؤ کے لئے اپنی سواریوں سے اترتے تھے تو ہم اس وقت تک عبادت میں مشغول نہیں ہوتے تھے جب تک ہم اپنے اونٹوں کے کجاوے کھول نہ لیتے تھے۔ (انسج حتى نحل الرحال ، ابوداؤد، آداب السفر ) اس چھوٹے سے واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مومن کا مزاج کیا ہے۔ یہ مومنانہ مزاج نہیں ہے کہ آدمی گھوڑے یا اونٹ پر سفر کر رہا ہو اور کہیں ٹھہرے تو فوراً وضو کر کے نماز کے لئے کھڑا ہو جائے اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader