ڈائری
Urdu book, p. 260
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان نے نہ چاہا۔ ایسا چاہنا جرم بھی ہے اور ناقابل حصول بھی۔ ہندوستان میں مراکش کے سابق سفیر عبد الحق سدانی نے ایک بار ایک بیان جاری کیا۔ اس میں انہوں نے ایک چھپے ہوئے ہاتھ (Hidden hand) کی نشاندہی کی تھی جو ہندوستان میں ہمارے مسلم بھائیوں کے خاتمہ (Exterminations of our brother Muslims in India) پر تلا ہوا ہے۔ (ٹائمز آف انڈیا، ۲ مئی ۱۹۷۹ء) یہ بیان دتی کے اخبارات میں چھپا تو اس دن مراکشی سفیر کو ہندوستان کے وزارت خارجہ کے دفتر میں بلایا گیا۔ ان کو تنبیہ کی گئی کہ آپ کا بیان ہندوستان کے داخلی امور سے متعلق ہے اور اس بنا پر سفارتی آداب کے بالکل خلاف ہے۔ چنانچہ اگلے ہی دن ۲۸ مئی ۱۹۷۹ء کے اخبار میں پہلے صفحہ پر یہ سرخی تھی : Moroccan envoy apologizes for statement. مراکشی سفیر عبد الحق سدانی نے اپنے الفاظ میں سنجیدہ معذرت (Sincere apology) کے ساتھ دوسرا بیان شائع کیا جس میں سابقہ بیان کو واپس لے لیا گیا تھا۔ پہلے بیان میں مسٹر سدانی نے کہا تھا کہ عرب سفیروں کی اکثریت اس احساس میں ان کے ساتھ ہے مگر دوسرے بیان میں انہوں نے اقرار کیا کہ یہ بات میں نے ذاتی طور پر کہی تھی۔ ایسا اقدام جس کو فوراً واپس لینا پڑے وہ صرف آدمی کی نادانی کا اشتہار ہے نہ کہ حقیقتاً کوئی اقدام۔ مزید ملاحظہ ہو۔ ۲۴ اپریل ۱۹۸۲ جمیعتہ علماء ہند نے جولائی ۱۹۷۹ء میں " ملک وملت بچاؤ" کی مہم چلائی تھی۔ اس کے تحت ہر روز ۵ افراد نئی دہلی کے بوٹ کلب پر گرفتاریاں دیتے تھے۔ مگر ملک وملت بچاؤ کی یہ مہم نہ صرف یہ کہ ملک وملت بچانے میں ناکام رہی، بلکہ ملک اور ملت دونوں اس واقعہ سے بھی بے خبر ہے کہ کچھ لوگ "سر پر کفن باندھ کر " اس کو بچانے کے لئے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ " آل انڈیا ریڈیو نے اپنے نیوز بلیٹن میں اس واقعہ کی کوئی خبر نہ دی۔ اس پر روز نامہ الجمعیتہ نے اپنے ایڈیٹوریل میں لکھا :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader