Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 261

By Maulana Wahiduddin Khan

اس ملک میں تقریباً دس کروڑ مسلمان ہیں۔ کیا ایک کروڑ ریڈیو لسٹ مسلمانوں کے یہاں نہ ہوں گے۔ اگر ہوں گے اور امکان ہے کہ ہوں گے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ مسلمان ۳۰ کروڑ روپیہ سرکار کو صرف ریڈیو لائسنس کی صورت میں سالانہ ادا کرتے ہیں۔ بجلی اور ریڈیو سیٹ کی بجلی پر سیل ٹیکس اور دوسرے ٹیکسوں کی صورت میں جو رقم ان کی جیب سے نکلتی ہے وہ الگ رہی۔ الجمعہ ۱۱ جولائی ۱۹۷۹ جمعیۃ علماء ہند نے " ملک وملت بچاؤ" کی مہم دوسری بار ۲۱ فروری ۱۹۸۳ سے شروع کرنے کا اعلان کیا۔ مگر وہ عجیب وغریب طور پر اتنی کامیاب ثابت ہوئی کہ شروع ہوتے ہی ختم ہوگئی۔ مذکورہ شکایت میں اس وقت وزن ہو سکتا تھا جب کہ مسلمان ریڈیو استعمال کرنے والوں کی طرف سے ایک کروڑ خط آل انڈیا ریڈیو کے دفتر میں پہنچ جاتے۔ موجودہ حالت میں اس شکایت کا مطلب یہ ہے کہ خود مسلمانوں کو بھی اس " تاریخ ساز" واقعہ کی اطلاع نہ ہوسکی کہ ریڈیو اور دوسرے قومی شعبے اس کو جانیں۔ ۲۵ اپریل ۱۹۸۲ روس کے سابق ڈکٹیٹر مارشل اسٹالن (۱۹۵۳ - ۱۸۷۹) کے آخری دنوں میں روسی اخبار پراودا میں گنا گیا تو صرف ایک اشاعت میں اسٹالن کا نام ۲۹ بار چھپا تھا۔ اسی طرح چینی ڈکٹیٹر ماؤزے تنگ کی زندگی میں ۱۹۶۶ میں ایک شخص نے ایک بار چینی اخبار (People's Daily) میں گنا تو اس کی صرف ایک اشاعت میں ماؤزے تنگ کا نام ۲۸۰ بار چھپا ہوا موجود تھا۔ آج جب کہ اسٹالن اور ماؤ مر چکے ہیں، ان کے ملکوں میں کوئی ان کا نام لینے والا نہیں۔ پراودا اور پیپلز ڈیلی بدستور چھپ رہے ہیں، مگر مہینوں گزر جاتے ہیں اور ان کے صفحات میں ایک بار بھی اسٹالن یا ماؤ کا نام نہیں آتا۔ یہی اس دنیا میں ہر ڈکٹیٹر کا انجام ہوتا ہے۔ ڈکٹیٹر اپنی زندگی میں اپنے ملک میں سب کچھ نظر آتا ہے۔ مگر مرنے کے بعد وہ اسی ملک میں بالکل بے کچھ ہو جاتا ہے۔ ۲۶ اپریل ۱۹۸۲ افریقہ میں اسلام کی تیز رفتار اشاعت کا سبب کیا ہے۔ اس سلسلہ میں لندن سے شائع ہونے والی ایک انسائیکلو پیڈیا میں حسب ذیل الفاظ لکھے گئے ہیں:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page