ڈائری
Urdu book, p. 262
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کی اشاعت زیادہ ترسحیت کی قیمت پر حاصل ہوئی ہے۔ اکثر افریقیوں کے نزدیک سمیت امپیرلزم کے ہم معنی ہے۔ اور وہ رنگ کی بنیاد پر امتیاز کی حامل ہے جس کو سفید اقوام نے قائم کر رکھا ہے: جزئی طور پر یہ بھی ایک سبب ہو سکتا ہے۔ مگر یہی اصل سبب نہیں ہے۔ اصل سبب ہے ــــــــ توحید کے عقیدہ کا فطرت انسانی کے مطابق ہونا اور تمام انسانوں کو یکساں حیثیت ملنا۔ ۲۷ اپریل ۱۹۸۴ مولانا شبلی نعمانی (۱۹۱۴-۱۸۵۷) اپنی آخر عمر میں مسلمانوں کا گر و کل بنانا چاہتے تھے۔ جس میں آریہ اپدیشکوں کی طرح مسلم نوجوانوں کو اسلام کی تبلیغ کے لئے تیار کیا جائے۔ انھوں نے ندوہ میں، جب کہ وہاں کے متقدم تعلیمات تھے، خدام دین کے نام سے ایک مجلس بھی بنائی تھی۔ اس کے تحت کئی لڑکے ایسے تیار ہو گئے تھے جو ہندی اور سنسکرت میں تقریر کرنے لگے تھے۔ ندوہ کے ایک اجلاس میں ان تربیت یافتہ لڑکوں نے ہندی اور سنسکرت میں اسلام کی حمایت میں تقریریں کیں تو لوگوں کو کافی حیرت ہوئی۔ مگر مولانا شبلی کی یہ اسکیم کامیاب نہ ہوسکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ محض وقتی دفاع کے جذبہ سے ابھری تھی نہ کہ مستقل دعوتی جذبہ کے تحت۔ مولانا شبلی کے زمانہ میں، ہندوستان کے بعض علاقوں میں آریہ مبلغین اپنا مذہب پھیلا رہے تھے اور یہ خطرہ پیدا ہوگیا تھا کہ بہت سے جاہل مسلمان ان کی باتوں سے متاثر ہو کر اپنا مذہب بدل دیں گے۔ اس صورت حال نے مولانا شبلی کے اندر حمیت کا جذبہ ابھارا۔ اور انھوں نے چاہا کہ متاثرہ علاقوں میں تربیت یافتہ مبلغین کو بھیج کر آریہ سماجیوں کا توڑ کیا جائے۔ داعی وہ ہے جو انداز و تبشیر کے جذبہ سے بے تاب ہو کر اٹھے۔ عیسائی مشنریوں اور آریہ مبلغوں کے توڑ کے لئے اٹھنا حقیقتاً قوم پرستی ہے نہ کہ دعوت الی اللہ۔ مدھو کشور (ایڈیٹر منشی) نے ٹائمس آف انڈیا میں ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں وہ کہتی ہیں کہ آج تعدد ازدواج، زبانی طلاق اور پردہ یہ وہ چیزیں ہیں جن کو ہندو یہ ثابت کرنے کے لئے پیش

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader