ڈائری
Urdu book, p. 263
By Maulana Wahiduddin Khan
کرتے ہیں کہ مسلمان اور اسلام کس قدر پس ماندہ اور وحشی ہیں:
Today, polygamy, verbal divorce, and purdah are sighted by Hindus to prove how backward and barbaric Muslims and Islam are.
یہ اعتراضات سراسر بے بنیاد ہیں۔ تعدد ازواج ایک فطری ضرورت ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ آج بھی وہ کسی نہ کسی شکل میں تمام دنیا میں پایا جاتا ہے۔ کہیں فری سیکس کی صورت میں اور کہیں کئی شادیوں کی صورت میں۔ حتی کہ ۱۹۳۵ء میں ہندوستان میں ایک کمیٹی مقر کی گئی تھی جس کا نام تھا:
Committee on the status of women in India.
اس کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ہندوؤں میں تعدد ازواج کے واقعات ۵۱۸ فیصد ہیں اور مسلمانوں میں ۷۵ فیصد ۔ یعنی مسلمانوں کے مقابلہ میں ہندوؤں میں زیادہ۔ اسی طرح اسلام میں طلاق کا آسان ہونا انتہائی فطری ہے۔ ہندو سوسائٹی میں طلاق کو مشکل بنا دیا گیا ہے جس کی قیمت اس کو خو اتین کی خود سوزی کی شکل میں دینی پڑتی ہے۔ اسی طرح پردہ بھی عین فطری ہے ۔ پردہ کے معنی حقیقتہً عورتوں اور مردوں کے درمیان سرگرمیوں کے دائرہ کی تقسیم ہے اور دونوں صنفوں کے درمیان آناً دانہ اختلاط کو روکنا ہے علمی تحقیق اور تجربہ دونوں بہتر معاشرہ کے لئے اس کی اہمیت تسلیم کرتے ہیں۔ ۲۹ اپریل ۱۹۸۴ روز نامہ الجمعیتہ (۱۰ فروری ۱۹۸۳) میں حکیم ظل الرحمن صاحب کا ایک مضمون چھپا تھا۔ اس مضمون میں انھوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے بارہ میں حسب ذیل پر جوش الفاظ لکھے تھے : ”وہ کون عقلمند تھا جس نے کروڑوں انسانوں کی تعداد پر اقلیت کا اطلاق کیا۔ عربی کا ایک لفظ قلیل ہے جس کا صیغہ تفضیل اقل ہے۔ جس کے معنی بہت ہی تھوڑے کے ہوتے ہیں۔ ہمارے علماء کی خاموشی نے اس لفظ کا اطلاق مسلمانوں پر کر دیا جس کے نتیجے میں ۱۲ کروڑ کی تعداد کا ایک طبقہ اس احساس کمتری میں مبتلا ہو گیا کہ ہم اقلیت میں ہیں۔ اور نا قابل شمار چیز ہیں۔ مگر سلمان ملک کی ثانوی اکثریت ہیں۔ خدارا اقلیت کے لفظ کو امت مسلمہ کی تاریخ سے نکال دیجئے ۔ اور اپنے آپ کو ملک کی ثانوی اکثریت کہنے کی عادت ڈالیے۔ بلاشبہ عیسائی ، سکھ اس ملک کی اقلیت شمار ہو سکتے ہیں لیکن مسلمان اس ملک کی اقلیت نہیں ہیں۔ ہم اس ملک کی ثانوی اکثریت میں۔ الجمعیتہ ۱۰ فروری ۱۹۸۳)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader