ڈائری
Urdu book, p. 264
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلمانوں کا اصل مرض ان کا جھوٹا فخر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی شکست کو بھی فتح کے خانہ میں لکھنا چاہتے ہیں اور اپنی کمی کو بھی زیادتی کے الفاظ میں بیان کرکے خوش ہوتے ہیں۔ "اقلیت" ایک جمہوری اصطلاح ہے۔ اس سے مراد نسبتی تعداد ہے نہ کہ مطلق تعداد۔ نسبتی تعداد کے اعتبار سے کبھی بارہ آدمی بھی اکثریت میں ہو جاتے ہیں اور کبھی ۱۲ کروڑ آدمی اقلیت میں۔ اسی غیر حقیقت پسندانہ اندازِ فکر کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان اپنی تعداد ۱۲ کروڑ اور ۲۰ کروڑ بتاتے ہیں۔ حالانکہ اس کے لئے ان کے پاس کوئی واقعی دلیل نہیں۔ ۳۰ اپریل ۱۹۸۴ ٹی۔ ایس ایلیٹ نے کہا ہے ــــــــــ "اگر تم کسی گول چھیید میں جا پڑو تو تمھیں اپنے آپ کو گیند بنا لینا چاہئے یہ زندگی کا نہایت قیمتی گر ہے۔ آدمی اگر اس کو پکڑلے تو وہ موجودہ دنیا میں اس کی کامیابی کے لئے کافی ہو جائے۔ تاہم موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں سب سے کم جو صفت پائی جاتی ہے وہ یہی ہے۔ اس کی وجہ مسلمانوں کے وہ نادان لیڈر ہیں جو بے معنی الفاظ بول کر مسلمانوں کے ذہن کو بگاڑتے ہیں۔ مسلم لیڈروں کی فوج کی فوج بے سمجھ بوجھ پر جوش انداز میں یہ الفاظ دہراتی ہے: زمانہ با تو نساز تو با زمانہ ستیز۔ حالانکہ خود ان لیڈروں کا یہ حال ہے کہ انھوں نے اولاً یہ نعرہ لگایا: چین و عرب ہمارا ہندوستان ہمارا مسلم ہیں ہم وطن ہیں سارا جہاں ہمارا اس کے بعد جب انھوں نے دیکھا کہ سامنے ملک پر وہ اپنا جھنڈا نہیں لہرا سکتے تو انھوں نے یہ تجویز کیا کہ ملک کا ایک حصہ (جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے)، ہمیں بانٹ کر دے دیا جائے۔ گویا "گول خانہ" کو اپنے لحاظ سے چوکھٹا کرنے کے حالات نہیں تھے تو انھوں نے خود اپنے آپ کو گول کر لیا۔ یکم مئی ۱۹۸۴ میرٹھ کے شاہ گھاٹ میں ایک چبوترے کا جھگڑا تھا۔ وہاں ایک قبر ہے اور ایک پیپل کا درخت۔ ہندوؤں نے پیپل کو بنیاد بنا کر اس کو مندر کی حیثیت دینے کی کوشش کی۔ اور مسلمانوں نے قبر کو بنیاد بنا کر یہ دعویٰ کیا کہ یہ ہمارے بزرگ کا مزار ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ وہ اس قبر پر چادر چڑھائیں گے اور رسوم ادا کریں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader