Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 265

By Maulana Wahiduddin Khan

جھگڑا بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ ۶ ستمبر اور ۷ ستمبر ۱۹۸۲ کی درمیانی رات کو مسلمانوں نے وہاں کے ایک پجاری کو قتل کر دیا۔ ۷ ستمبر ۱۹۸۲ کی صبح کو جب پجاری کے قتل کی خبر مشہور ہوئی تو شہر میں ہندو مسلم فساد کی آگ بھڑک اٹھی اور سارا شہر اس کی لپیٹ میں آگیا۔ اس فساد کا ایک طرفہ نقصان صرف مسلمانوں کو ہوا۔ بیسیوں مسلمان مارے گئے۔ ہزاروں گھر لوٹے اور جلائے گئے۔ کروڑوں روپیہ کا مالی نقصان ہوا۔ (الجمعیتہ ۲۱ اکتوبر ۱۹۸۲) ہندوستان کے تمام ہندو مسلم فسادات کم بیش اسی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ ان کا خلاصہ صرف ایک ہے۔ چھوٹے نقصان کو برداشت نہ کرنا اور اس کے نتیجہ میں زیادہ بڑا نقصان سامنے آنا۔ ۲ مئی ۱۹۸۲ اے بی نوبیل (۱۸۹۶-۱۸۳۳) وہ شخص ہے جس کے نام پر مشہور نوبیل انعام دیا جاتا ہے۔ وہ نئی نئی چیز ایجاد کرنے کی خاص صلاحیت رکھتا تھا۔ وہ روانی کے ساتھ انگریزی، فرانس، جرمن، رشن اور سوئیڈش زبانیں بول سکتا تھا۔ اس نے ڈائنا مائیٹ اور دوسری چیزیں ایجاد کیں۔ اس سلسلہ میں اس کی فیکٹری میں ۱۸۶۴ میں ایک سخت دھماکہ ہوا جس میں اس کا بھائی مرگیا۔ وہ ہر وقت نئی چیزیں دریافت کرنے کی دھن میں لگا رہتا تھا۔ یہاں تک کہ اس کو لوگ دیوانہ سائنس داں (mad scientist) کہنے لگے۔ سائنس کا میدان ہو یا مذہب کا میدان، ہر میدان میں کوئی قابلِ ذکر چیز پانے کے لئے دیوانہ بننا پڑتا ہے۔”میڈ سائنٹسٹ ہی کوئی نئی چیز دریافت کرتا ہے۔ نوبیل کی بعض دریافتوں کو اتفاقی دریافت (chance discovery) کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ کسی اور چیز پر تحقیق کر رہا تھا اور اتفاقاً کوئی اور چیز اس پر منکشف ہوگئی۔ مگر یہاں وہی الفاظ صادق آتے ہیں جو نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر رمن نے کہے تھے: یہ دریافت اگر چہ ایک اتفاق تھی مگر ایسا اتفاق صرف سائنس داں کو پیش آتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی نئی چیز دریافت کرنے کے لئے آدمی کو دیوانہ بننا پڑتا ہے خواہ وہ روحانیت کا میدان ہو یا طبیعیات کا میدان۔ دیوانگی کی حد تک کسی راہ میں لگے بغیر کوئی بڑی چیز کسی کو حاصل نہیں ہوتی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page