ڈائری
Urdu book, p. 266
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک حدیث قدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں اپنے کسی بندے کو مصیبت میں ڈالتا ہوں اور وہ اس پر صبر کرتا ہے تو میں اس کے گوشت کو زیادہ بہتر گوشت سے بدل دیتا ہوں اور اس کے خون کو زیادہ بہتر خون سے بدل دیتا ہوں (دمه من خير دم ولحمه من خير لحم) صبر کیا ہے، صبر یہ ہے کہ آدمی اس سمائی (capacity) کا ثبوت دے کہ وہ مشکلات و مصائب کو برداشت کر سکتا ہے۔ جو شخص رد عمل کی نفسیات میں مبتلا ہوئے بغیر مشکلات و مسائل کو برداشت کرلے تو اس کے اندر سے ایک نیا انسان ظہور (emerge) کرتا ہے۔ وہ پہلے سے زیادہ اونچا انسان بن جاتا ہے۔ موجودہ دنیا میں روحانی ارتقاء کا ذریعہ صبر ہے۔ آدمی اگر ناخوشگوار یوں پر صبر نہ کرے تو وہ نفسیاتی اعتبار سے پستی میں گر جاتا ہے۔ اور اگر وہ صبر کرلے تو وہ نفسیاتی اعتبار سے بلند ہو جاتا ہے صبر اس دنیا میں ہر قسم کی اعلیٰ ترقیوں کا واحد زینہ ہے۔ ۴ مئی ۱۹۸۲ اپریل ۱۹۸۲ء کے ہندوستانی الیکشن میں جنتا پارٹی کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی۔ جنتا پارٹی نے مسٹر مرار جی ڈیسائی کو اپنا پارٹی لیڈر چنا۔ اس کے بعد رام لیلا گراؤنڈ میں جنتا پارٹی کا بہت بڑا جلسہ ہوا۔ میں بھی اس جلسہ میں شریک تھا۔ اس جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے مسٹر مرار جی ڈیسائی نے کہا: "میں کوئی غلطی کروں تو آپ میرا کان پکڑ سکتے ہیں"۔ جنتا حکومت میں مسٹر چرن سنگھ وزیر داخلہ تھے۔ بعد کو انھوں نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ مارچ ۱۹۸۲ء میں انھوں نے وزیراعظم مسٹر مرار جی ڈیسائی سے کہا کہ آپ کے لڑکے کا نتی ڈیسائی کے بارے میں کرپشن کی شکایات ہیں۔ اس کی باقاعدہ انکوائری کرائی جانی چاہئے اور اس کے لئے ایک کمیشن مقرر کیا جانا چاہئے۔ (ٹائمس آف انڈیا ۶ جولائی ۱۹۸۲ء) اس کے جواب میں مسٹر مرار جی ڈیسائی خفا ہو گئے۔ باہمی اختلاف یہاں تک بڑھا کہ جولائی ۱۹۸۲ میں مسٹر ڈیسائی نے مسٹر چرن سنگھ سے استعفا کا مطالبہ کیا۔ دونوں میں سخت رنجش پیدا ہو گئی۔ مسٹر اٹل بہاری واجپئی کے بیان کے مطابق ڈیسائی، چرن سنگھ ملاقات اس لئے نہ ہو سکی کہ مسٹر ڈیسائی کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader