ڈائری
Urdu book, p. 267
By Maulana Wahiduddin Khan
اصرار تھا کہ چرن سنگھ میرے یہاں آکر ملیں ۔ یہ کشمکش یہاں تک بڑھی کہ جنتا حکومت ختم ہو گئی۔ (ٹائمز آف انڈیا ۸ جولائی ۱۹۷۸ء) لفظوں میں کان پکڑوانا کتنا آسان ہے اور عمل میں کان پکڑوانا کتنا مشکل ۔ ۵ مئی ۱۹۸۳ ایک انگریزی اخبار کے ایڈیٹر کی بعض باتوں سے اس کے دوستوں کو شبہ ہوا کہ وہ صحافت کی زندگی سے الگ ہونے کا ارادہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے پوچھا ۔ کیا آپ صحافت سے ریٹائر ہونا ۔ چاہتے ہیں ۔ ایڈیٹر نے جواب دیا : No, I will only retire at Nigambodh Ghat or Chandanwadi. نہیں میں صرف نگم بودھ گھاٹ یا چندن واڑی پر ریٹائر ہوں گا (ہندوستان ٹائمز ۲۹ جنوری ۱۹۸۳) اسی طرح ایک ایڈیٹر صاحب نے ایک بار لکھا تھا : میں جہنم میں نہیں جاؤں گا ، کیوں کہ وہاں بھیڑ ہوگی اور مجھے جنت میں جانا پسند نہیں، کیوں کہ وہاں سناٹا ہوگا۔ اس طرح کی باتیں اکثر لوگ مختلف شکلوں میں کرتے رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جنت اور جہنم کے بارہ میں سنجیدہ نہیں۔ اگر وہ جہنم کی آگ کے بارہ میں اسی طرح سنجیدہ ہوں جس طرح وہ دنیا میں ایک جلتے ہوتے الاؤ کے بارہ میں سنجیدہ ہوتے ہیں۔ اور اگر وہ جنت کے عیش کو اسی طرح اہمیت دیں جس طرح وہ دنیا کے عیش کو اہمیت دیتے ہیں تو کبھی ان کی زبان سے ایسے الفاظ نہ نکلیں ۔ ۶ مئی ۱۹۸۳ کشمیر کے قانون کے مطابق کوئی باہر کا آدمی کشمیر میں زمین اور جائداد کا مالک نہیں ہو سکتا۔ یہ قانون وہاں مہاراجہ کے زمانہ سے چلا آ رہا ہے۔ یہی قانون ہے جس نے کشمیر میں بوٹ ہاؤس کو رواج دیا جو کشمیر کی خصوصیت سمجھی جاتی ہے۔ ۱۸۸۸ء میں ایک انگریزی سری نگر آیا۔ اس کو سری نگر بہت پسند آگیا۔ اس نے چاہا کہ وہاں مستقل قیام کرے جب اس کو معلوم ہوا کہ یہاں وہ ذاتی مکان نہیں بنا سکتا تو اس نے سرینگر میں قیام کے لئے یہ تدبیر نکالی کہ وہ کشتی میں مکان بنا کر اس کو پانی پر تیرادے۔ اور پھر اس کے اندر رہے۔ یہی چیز بعد کو بوٹ ہاؤس کے نام سے مشہور ہوئی۔ مذکورہ انگریز کا نام کینارڈ (M.T.Kennard) تھا۔ اس نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader