ڈائری
Urdu book, p. 268
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنی اس کشتی کے مکان کا نام وکٹری رکھا۔ اور اس کو دریائے جہلم کے پانی میں تیرا یا۔ انسان جب دل سے کسی چیز کو چاہتا ہے تو اس کے لئے وہ ہر حال میں کوئی راستہ نکال لیتا ہے خواہ بنا ہر وہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ معلوم ہوتا ہو۔ ۷ مئی ۱۹۸۳ء ۱۹ ویں صدی عیسوی میں تین بڑی مسلم حکومتیں تھیں۔ ترکی کی عثمانی خلافت، ہندوستان کے مغل، فارس کی ایرانی حکومت۔ اس کے بعد ان ملکوں میں مغربی قوموں کا تدخل شروع ہوا۔ ۵۰-۱۸۰ء تک مذکورہ تینوں مسلم طاقتیں یورپ کے زیر اقتدار آچکی تھیں۔ اسی طرح انڈونیشیا ڈچ کے قبضہ میں، ملیشیا انگریز کے قبضہ میں، الجیریا وغیرہ فرانس کے قبضہ میں چلاگیا۔ اس کے بعد تمام مسلم دنیا میں ردعمل شروع ہوا۔ ہر جگہ لوگ کسی نہ کسی شکل میں بیرونی حکمرانوں کے خلاف لڑنے کے لئے کھڑے ہوگئے۔ مگر یہ تمام لڑائیاں بس اس طرح پیش آئیں کہ مسلمان جس حال میں تھے اسی حال میں وہ مغربی اقوام سے لڑنے لگے۔ اس پوری مدت میں کوئی ایک بھی قابلِ ذکر مثال نہیں ملتی کہ مسلم ذمہ داروں کا کوئی وفد یورپ جائے اور وہاں سنجیدہ طور پر یہ جاننے کی کوشش کرے کہ یورپی قوموں کی اس طاقت کا راز کیا ہے کہ وہ اپنے ملکوں سے نکل کر ساری دنیا پر قابض ہوگئی ہیں۔ مسلمان محض جوش کے تحت لڑائی لڑتے رہے۔ انھوں نے اپنے ہوش کو استعمال کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ جدید تاریخ میں گاندھی پہلے لیڈر ہیں جنھوں نے نو آبادیاتی طاقتوں کے مقابلہ میں ہوش کا ہتھیار استعمال کیا۔ ۸ مئی ۱۹۸۲ء بائبل اور تلمود سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام "موتی" فرعون کے گھر میں رکھا گیا تھا۔ فرعون اور اس کی بیوی جب حضرت موسیٰ کو دریائے نکال کر اپنے محل میں لائے تو انھوں نے آپ کا نام "موسیٰ" تجویز کیا۔ آپ کا یہی نام مشہور ہوگیا۔ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کے ایک فرد تھے۔ آپ کی قومی اور مذہبی زبان عبرانی تھی۔ مگر موسیٰ عبرانی زبان کا لفظ نہیں۔ یہ قبطی زبان کا لفظ ہے جو فرعون اور اس کی قوم کی زبان تھی۔ موتی کے معنی قدیم قبطی زبان میں ہیں "پانی سے نکالا ہوا" یا "میں نے اسے پانی سے نکالا"۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader