ڈائری
Urdu book, p. 269
By Maulana Wahiduddin Khan
آجکل جس طرح الفاظ کے لئے جھگڑا کیا جاتا ہے، اگر حضرت موسیٰ کا وہ ذہن ہوتا تو فرعون کے رکھے ہوئے نام کو آپ پسند نہ کرتے اور بعد کے زمانہ میں اس کو بدل دیتے۔ مگر فرعون کا اور قبطی زبان کا یہی لفظ آپ کا مستقل نام بن گیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ”موسیٰ“ ہی کے لفظ سے پکارا، جیسا کہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے۔ اس سے سچے دین کا مزاج معلوم ہوتا ہے۔ سچا دین حقیقتوں کو دیکھتا ہے اور جھوٹا دین لفظوں کی بحث کرتا ہے۔ سچا دین حقیقت کو اہمیت دیتا ہے اور جھوٹا دین الفاظ کو۔ ۹ مئی ۱۹۸۲ رابرٹ فراسٹ (۱۹۶۳- ۱۸۷۴) امریکہ کا مشہور شاعر ہے۔ وہ امریکہ میں پیدا ہوا۔ مگر امریکہ میں ابتداء اس کو مقبولیت حاصل نہ ہوسکی۔ یہاں تک کہ انگلستان میں اس کے قدرداں پیدا ہوئے۔ اور انھوں نے اس کے اعتراف میں مضامین لکھے۔ انگلینڈ کی قدر دانی کے بعد امریکہ والوں نے بھی اس کو تسلیم کیا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپنے قریبی ماحول میں آدمی کا اعتراف نہیں کیا جاتا۔ قریبی لوگوں کو وہ اپنی طرح کا ایک ”انسان“ دکھائی دیتا ہے۔ مگر دور والوں کو اس کے صرف انکار پہنچتے ہیں۔ وہ اس کے جوہر کی بنیاد پر اس کو جانتے ہیں اور متاثر ہوتے ہیں۔ قریب کے لوگ نفسیاتی پیچیدگیوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ جب کہ دور کے لوگ نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہو کر سوچتے ہیں۔ اس لئے دور کے لوگ کسی آدمی کو پہلے پہچان لیتے ہیں اور قریب کے لوگ نسبتاً دیر میں پہچانتے ہیں۔ ۱۰ مارچ ۱۹۸۴ مجھے اپنی زندگی میں مسلمانوں کے بارے میں جو تجربات ہوئے ان کی بنا پر میں کہہ سکتا ہوں کہ لوگوں کو شاید خدا کا اتنا ڈر بھی نہیں ہے جتنا کسی کو چیونٹی کاٹنے کا ہوتا ہے۔ خدا اسے بے خوفی کے بغیر کوئی شخص ان افعال کی جرأت نہیں کر سکتا جن کا مشاہدہ آج کل بار بار ہو رہا ہے۔ کاش لوگ جانتے کہ بے خوفی کا یہ لمحہ بہت دیر تک ان کے لئے باقی رہنے والا نہیں۔ لوگ جتنی زیادتی چاہیں کرلیں، بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے کہ ان کی تمام آزادیاں ان سے چھین جائیں گی۔ حتیٰ کہ لوگوں کے پاس بے بسی کے سوا کوئی اور اثاثہ باقی نہیں رہے گا جس کو وہ اپنا سمجھیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader