ڈائری
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
جانور کو اسی حالت میں چھوڑ دے۔ اس کو چاہئے کہ پہلے وہ جانور کو ہلکا کرے۔ اس کو سایہ اور چارہ دے اور اس کی راحت کا انتظام کرے۔ پھر عبادت الہی میں مشغول ہو۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مومن دوسروں کے بارہ میں کتنا زیادہ حساس ہوتا ہے، حتیٰ کہ جانوروں کے بارہ میں بھی۔ ۸ فروری ۱۹۸۳ پلوٹارک (Plutarch) ایک یونانی مصنف ہے۔ وہ حضرت مسیح کا ہم عصر تھا۔ کیسی عجیب بات ہے کہ آج تاریخی طور پر پلوٹارک کے بارہ میں ہم کو اس سے زیادہ معلومات حاصل ہیں جتنا حضرت مسیح کے بارہ میں حاصل ہیں۔ اس کی یونانی زبان میں لکھی ہوئی کتاب (Bioi Parallelai) کا اصل نسخہ ابھی تک موجود ہے۔ یہ نسخہ اپنی اصل زبان میں ۱۵۱۷ء میں شائع ہوا۔ تقریباً تمام قابل ذکر زبانوں میں اس کے ترجمے شائع ہو چکے ہیں۔ انگریزی زبان میں پہلی بار سر تھامس نارتھ نے اس کا ترجمہ شائع کیا۔ یہ ترجمہ ۱۵۷۹ء میں (Parallel Lives) کے نام سے چھپا۔ پلوٹارک نے اپنی اس کتاب میں یونانی اور رومی ہیروں کے واقعات بیان کئے ہیں۔ یہ واقعات بڑے عجیب ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ یونانیوں اور رومیوں میں کون سے اعلیٰ اخلاقی اوصاف تھے جنھوں نے ان کو ایک زمانہ میں تمام دنیا میں سب سے اونچا مقام دے دیا۔ مثلاً اس میں ایک رومی جنرل کا واقعہ لکھا ہے کہ وہ ایک ملک میں فتوحات کرتے ہوئے اس کے قلعہ تک پہنچا۔ یہ قلعہ بہت بڑا تھا اور اس میں ضرورت کا تمام سامان موجود تھا۔ چنانچہ وہ لوگ قلعہ کا پھاٹک بند کر کے بیٹھ گئے۔ رومی جنرل کی فوج قلعہ کے باہر گھیرا ڈالے پڑی ہوئی تھی مگر ابھی اسے فتح نہیں کر پائی تھی۔ اس درمیان میں ایک واقعہ ہوا۔ قلعہ کے اندر ایک اسکول تھا جس میں بڑے بڑے سرداروں کے لڑکے پڑھتے تھے۔ اسکول کے استاد کے ذہن میں آیا کہ اس نازک موقع پر اگر میں رومی فوج کی مدد کروں تو قلعہ فتح کرنے کے بعد وہ مجھے بہت انعام دیں گے اور میرا مرتبہ بڑھائیں گے۔ چنانچہ اس نے خاموشی کے ساتھ ایک روز بچوں کو ساتھ لیا اور ان کو پھراتے ہوئے قلعہ کے پوشیدہ راستہ پر لے گیا۔ وہ اس راستہ سے گزر کر بچوں سمیت باہر آگیا۔ اب وہ رومی جنرل سے ملا۔ اس نے کہا کہ یہ بڑے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader