Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 270

By Maulana Wahiduddin Khan

اس وقت لوگ بولنا چاہیں گے مگر ان کے پاس الفاظ نہ ہوں گے کہ وہ بولیں۔ وہ کرنا چاہیں گے مگر ان کے پاس طاقت نہ ہوگی کہ وہ کچھ کریں۔ اس زلزلہ خیز وقت کے آنے میں کچھ بھی دیر نہیں۔ جو وقت آنے والا ہے وہ آکر رہے گا، بلکہ جو وقت آنے والا ہے وہ آچکا۔ یہ صرف اندھے اور بے حس لوگ ہیں جو آنے والے وقت کو اپنے سے دور سمجھ رہے ہیں۔ لوگوں کے اوپر افسوس ہے۔ اگر وہ اپنے جیسے ایک انسان سے بے خوف ہیں تو کیا وہ خدا سے بھی بے خوف ہوگئے ہیں۔ کاش لوگوں کے پاس آنکھ ہو کہ وہ دیکھیں اور ان کے پاس عقل ہو کہ وہ سمجھیں۔ آہ انسان کے اوپر کتنا زیادہ بے بسی کا لمحہ آنے والا ہے، مگر وہ اپنے آپ کو کتنا زیادہ با اختیار سمجھ رہا ہے، آہ وہ انسان، جو اسی بات کو نہیں جانتا جس کو اسے سب سے زیادہ جاننا چاہئے، جو اسی بات سے بے خبر ہے جس سے اسے سب سے زیادہ باخبر ہونا چاہئے۔ ۱۱ مئی ۱۹۸۴ مغربی جرمنی کے ایک پروفیسر ہیں جن کا نام دو بوئر ہے۔ انہوں نے اسلام کا گہرا مطالعہ کیا ہے اور اسلام سے کافی دل چسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ کے عیسائی اپنی نسل پرستی کے لئے انجیل کا حوالہ دیتے ہیں مگر وہ انجیل کو باورچی خانہ کی کتاب کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ وہ اپنے مطلب کی سطر کو بطور حوالہ اخذ کرلیتے ہیں۔ وہ یہ دیکھنے کی زحمت نہیں کرتے کہ اس سطر کا سیاق و سباق کیا ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ جنوبی امریکہ میں اپنے قیام کے دوران میں نے وہاں کے لوگوں سے پوچھا کہ کیا تم ماسکو سے ڈرتے ہو۔ ان لوگوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ پھر میں نے پوچھا کہ کیا تم لوگ امریکہ سے ڈرتے ہو۔ ان لوگوں نے دوبارہ کہا کہ نہیں۔ میں نے پوچھا کہ پھر تم لوگ کس چیز سے ڈرتے ہو۔ انہوں نے جواب دیا: ہم جنوبی امریکہ میں واقع عالمی سطح کی ۲۰۰ امریکی کمپنیوں سے خوف زدہ ہیں۔ قدیم زمانہ میں سیاسی خطرہ سب سے بڑے خطرہ کی حیثیت رکھتا تھا، مگر آج اقتصادی خطرہ سب سے بڑا خطرہ ہے۔ خدا کے دین میں لوگوں نے بے شمار قسم کے بگاڑ پیدا کئے ہیں۔ لیکن اگر تجزیہ کیا جائے تو بگاڑ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page