ڈائری
Urdu book, p. 271
By Maulana Wahiduddin Khan
آتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح آخرت کی ذمہ داری سے فرار حاصل کیا جائے۔ کسی نے خدا کو مانتے ہوئے اس کی تشریح اس طرح کی کہ خدا کو سمندر قرار دیا اور انسان کو اس کا ایک قطرہ۔ موت کے بعد یہ قطرہ سمندر میں مل جاتا ہے۔ بالفاظ دیگر خدا اور انسان کا کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ اب ظاہر ہے کہ جب انسان کا الگ سے کوئی وجود ہی نہ رہ جائے تو کون کس کو پکڑے گا اور کون کس کا حساب لے گا۔ کسی نے سزا اور انعام کو اصولی طور پر مانتے ہوئے یہ کہا کہ زندگی ایک جبری چکر ہے۔ انسان زندگی کے لازمی قانون کے تحت بار بار ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف جاتا رہتا ہے، جو یا تو اس کی پچھلی زندگی کے اچھے عمل کا نتیجہ ہوتی ہے، یا برے عمل کا۔ اس فلسفہ میں بھی آخرت کا تصور حذف ہو گیا۔ کیوں کہ آخرت کا عقیدہ شعوری محاسبہ کا تقاضا کرتا ہے۔ جب کہ مذکورہ فلسفہ کے مطابق سب کچھ میکینیکل طور پر ہو رہا ہے۔ کچھ لوگوں نے آخرت کو پوری طرح مانتے ہوئے کفارہ کا عقیدہ گھڑ لیا۔ یعنی یہ کہ کوئی دوسرا شخص ہماری طرف سے ہمارے گناہوں کا کفارہ ہو چکا ہے۔ اس نظریہ کے مطابق بھی آدمی کے اوپر سے آخرت کی ذمہ داری ساقط ہو جاتی ہے۔ کیونکہ جو کچھ ہمیں کرنا تھا وہ پہلے ہی دوسرا شخص انجام دے چکا۔ وغیرہ، وغیرہ ۱۳ مئی ۱۹۸۲ تاتار اصلًا ایک منگول قبیلہ تھا جو پانچویں صدی عیسوی کے بعد مشرقی منگولیا اور مغربی منچوریا میں آباد ہو گیا۔ اس قبیلہ کے ایک حصہ کو لے کر چنگیز خاں (۱۲۲۷ء - ۱۱۶۲ء) نے اپنی فوج بنائی اور تیر ہویں صدی عیسوی میں مشرقی یورپ پر حملہ آور ہوا۔ چنگیز خاں کی سلطنت کے خاتمہ کے بعد تاتاریوں کو ترک کہا جانے لگا۔ تاتاریوں نے ۱۲۵۸ء میں بغداد کو برباد کیا۔ تاتاریوں نے جب خلافت عباسیہ کو تباہ کیا تو مسلم شہروں سے وہ لاکھوں کی تعداد میں عورتوں کو پکڑ کر لے گئے اور ان کو باندی بنا کر اپنے گھروں میں رکھا۔ تاتاریوں کو مسلمان بنانے میں ان مسلم خواتین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader