ڈائری
Urdu book, p. 272
By Maulana Wahiduddin Khan
کا بہت بڑا حصہ ہے۔ یہ مسلم عورتیں ہر تاتاری کے گھر میں داخل ہوگئیں۔ وہ اگر چہ باندی کے طور پر رکھی گئی تھیں مگر ان کے دینی جذبے نے انہیں ابھار کر وہ اپنے مالکوں پر اسلام کی تبلیغ کریں۔ چنانچہ انھوں نے خاموشی کے ساتھ اسلام کی تبلیغ شروع کر دی۔ یہ کام بہت عرصہ تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ بیشتر تاتاری مسلمان ہو گئے۔ تاتاری اسلام کے دائرہ میں داخل ہو کر اسلام کے خادم بن گئے ، وہ تقریباً پانچو برس تک مسلم دنیا کے حکمراں رہے۔ ۱۴ مئی ۱۹۸۴ مسٹر خوشونت سنگھ ایک بار افریقہ کے سفر پر گئے تھے۔ اپنے اس سفر کی روداد انھوں نے الیسٹریڈ ویکلی آف انڈیا میں شائع کی تھی اس میں ایک بات یہ تھی : کینیا اور یوگنڈا کے اپنے آخری سفر میں میں نے عیسائیوں اور مسلمانوں کی ان تبلیغی کوششوں کا جائزہ لیا جو نیگر و قبائل کے درمیان جاری ہیں۔ عیسائیوں نے اعتراف کیا کہ مسلم عرب بردہ فروشوں کی ناخوشگوار یادوں کے باوجود افریقہ کے سیاہ فام باشندوں میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد عیسائیت قبول کرنے والوں سے زیادہ ہے۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کہنا غلط ہے کہ مسلمان بچوں کے بے عمل ہیں اس لئے ان کی تبلیغ غیر مسلموں میں مفید نہیں ہو سکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ بے عملی تبلیغ میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ لوگ اسلام کے اصولوں کو دیکھ کر اسلام قبول کرتے ہیں نہ کہ مسلمانوں کے عمل کو دیکھ کر ۔ اگر عمل کافی ہوتا تو کسی پیغمبر کی قوم کا فر نہ رہتی۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ اپنے جس بندہ سے محبت کرتا ہے اس پر وہ مصیبت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader