Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 273

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈال دیتا ہے۔ مصیبت میں مبتلا کرنا ، دوسرے لفظوں میں ، آدمی کو حقیقت کی سطح پر زندگی گزارنے کا موقع دیتا ہے۔ آدمی کی اصلی اور حقیقی حیثیت یہ ہے کہ وہ عارضی ہے ، اس کو کسی قسم کا ذاتی اختیار حاصل نہیں۔ مگر جو شخص آرام اور سکون میں ہو، وہ زندگی کی اس حقیقت سے بے خبر ہوتا ہے۔ ایسے شخص کی زندگی مصنوعی سطح پر گزرنے لگتی ہے۔ اس کے برعکس جو شخص غم میں ہو اس کا غم اسے حقیقت کی سطح پر لے جاتا ہے۔ وہ عین اسی سطح پر زندگی گزارنے لگتا ہے جو باعتبار واقعہ اس کی سطح ہے۔ ۱۲ مئی ۱۹۸۲ ڈاکٹر ایچ ۔ ڈی سنکالیا ( H.D. Sankalia) تاریخ اور علم الآثار کے مشہور ماہر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس بات کی کوئی اشریاتی شہادت نہیں ہے کہ مہابھارت کی لڑائی کبھی سرے سے ہوئی ہو: There is no archaeological evidence of Mahabharata war at all. ڈاکٹر سنکالیا پونہ میں یو این آئی کو ایک انٹرویو دے رہے تھے (ڈیلیٹمین ۲۵ ستمبر ۱۹۷۰) ۱۱ مئی ۱۹۸۲ سابق وزیر اعظم ہند مسز اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ لوگوں کو چپہ ہے کہ وہ خود اپنے اوپر ڈسپلن کو نافذ کریں نہ یہ کہ وہ ریاست کی طرف سے ان کے اوپر نافذ کیا جائے ، Discipline should be self-imposed, rather than state-imposed. نظم اور ڈسپلن اوپر سے قائم کرنے کی چیز نہیں۔ لوگوں کے اندر ڈسپلن کا مزاج ہو، اسی وقت ڈسپلن قائم ہوتا ہے۔ جو ڈسپلن حکومت کی طرف سے قائم کیا جائے وہ صرف جبر ہوتا ہے اور دوسری بدتر خرابیاں پیدا کرتا ہے۔ تاہم ہندوستان میں جو عام بد نظمی ہے اس کے لئے حکومت کو معذور نہیں قرار دیا جا سکتا۔ حکومت کی مشنری کی بھی ایک ذمہ داری ہے۔ اور اگر وہ اس کو ادا نہ کرے تو پھر اس مشنری کو قائم کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ سابق صدر مصر انور سادات نے ۲ اکتوبر ۱۹۸۳ کی مصر ۔ اسرائیل جنگ کے واقعات کا انکشاف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page