ڈائری
Urdu book, p. 274
By Maulana Wahiduddin Khan
کیا۔ اس سلسلے میں انھوں نے بتایا کہ مصری فوج نے ۷ اکتوبر ۱۹۷۴ کو نہر سوئز پار کرنے کے لئے 'پنٹون پل استعمال کئے تھے۔ یہ پل روس سے حاصل کئے گئے تھے۔ اتوار ماد ات نے بتایا کہ روس نے ابتداً ان کو ایسے پنٹون پل مہیا کئے جو دوسری جنگِ عظیم میں استعمال کئے گئے تھے۔ اس قدیم طرز کے پنٹون پل کو جوڑنے میں پانچ گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ حالانکہ جدید ترین پنٹون پل آدھ گھنٹے کے اندر اندر جوڑے جاسکتے ہیں۔ میں نے وزیرِ اعظم روس مسٹر کوسی گن سے جب سخت احتجاج کیا تو روس نے جنگ بندی سے کچھ دیر پہلے جدید پنٹون پل مہیاگئے۔ دوسروں کے بل پر لڑنے والوں کا یہی انجام ہوتا ہے۔ وہ اپنے دشمن کے خلاف لڑائی چھیڑ دیتے ہیں اور جب مدد دینے والے ان کی مدد نہیں کرتے تو ان کے خلاف شکایت لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ لیے لوگوں کی لڑائی بھی جھوٹی ہے اور ان کی شکایت بھی جھوٹی۔ ۱۹ مئی ۱۹۸۳ اسلام کی تاریخ عجیب و غریب واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ تاہم ایک واقعہ شاید ان میں سب سے زیادہ حیرت انگیز ہے۔ تیرہویں صدی عیسوی کے نصف اول میں اسپین کی مسلم سلطنت مسیحی بادشاہ کے ہاتھوں ختم ہوگئی۔ اور اسی کے ساتھ تاتاریوں نے عباسی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔ مگر عین اسی وقت دو حیرت انگیز واقعات پیش آئے۔ ایک طرف اسی زمانہ میں اسلام نے جنوبی ایشیا میں تجارت کے ذریعہ اپنا راستہ پالیا۔ دوسری طرف یہ واقعہ ہوا کہ فاتح تاتاریوں نے مفتوح مسلمانوں کے مذہب کو قبول کر لیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس طرح مثال قائم کر دی تھی کہ شکست کے بدترین حالات میں بھی اسلام کے لئے کامیاب پیش قدمی کے مواقع موجود رہتے ہیں۔ مگر موجودہ زمانہ کے رہنمائوں کو اس سے کوئی سبق نہیں ملا۔ موجودہ مشکلات نے انھیں فریاد و احتجاج کے سوا اور کوئی تحفہ نہیں دیا۔ ۲۰ مئی ۱۹۸۲ دو مسلمانوں میں بحث ہو رہی تھی۔ ایک مسٹر جناح کے دو قومی نظریہ کا حامی تھا۔ دوسرا مسلمان مولانا حسین احمد مدنی کے متحدہ قومیت کی تائید کر رہا تھا۔ اول الذکر مسلمان نے اپنے نقطہ نظر کے حق میں دلیل دیتے ہوئے کہا؛ "جناح کا دو قومی نظریہ بالکل صحیح تھا اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہم پاجامہ پہنتے ہیں اور اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader