Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 275

By Maulana Wahiduddin Khan

کو آگے سے باندھتے ہیں۔ ہندو لوگ دھوتی پہنتے ہیں اور اس کو پیچھے سے باندھتے ہیں۔ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جن کو یہ بھی نہیں معلوم کہ دلیل دوسری چیز ہے اور لطیفہ دوسری چیز۔ بمبئی: ۲۱ ستمبر ۱۹۷۵ء: بمبئی میں مہاراشٹر اسٹیٹ لئفٹ فاشزم کانفرنس کا دوروزہ اجلاس ہوا۔ کانفرنس میں کانگریس اور کمیونسٹ لیڈروں نے تقریریں کیں۔ آخر میں متفقہ طور پر رزولیو شن (اعلان نامہ) منظور کیا گیا۔ اس میں یہ درج تھا کہ اگر ملک میں ایمرجنسی لاگو کی جاتی تو ہندوستان میں بھی بنگلا دیش کی کہانی دہرائی جاتی۔ گویا ہندوستان کے لئے بنگلا دیش نہایت بری چیز ہے۔ مگر یہی ’’بنگلا دیش‘‘ پاکستان کے لئے اتنی اچھی چیز ہے کہ خود ہندوستان بنگلا دیشیوں کی مدد کر کے اسے بنواتا ہے اور فخر کرتا ہے کہ ہم نے بنگلا دیش بنوایا ہے۔ ۱۴ مئی ۱۹۸۳ء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مدینہ میں خلافت کی بحث شروع ہوئی۔ لوگ سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع تھے۔ حضرت ابو بكر صدیق نے اس موقع پر ایک تقریر کی۔ آپ نے قریش کے استحقاق خلافت کا ذکر کرتے ہوئے جو باتیں فرمائیں اس میں ایک جملہ یہ تھا: ھم اول من عبد الله في الارض (وہ پہلے لوگ ہیں جنھوں نے زمین میں اللہ کی عبادت کی) اس عبادت سے واضح طور پر وہ عمل مراد ہے جو انھوں نے مکہ میں کیا اور مکہ میں اس وقت عبادت کے معنی ذکر و نماز کے سوا اور کچھ نہ تھے۔ حباب بن منذر انصاری نے جوابی تقریر میں انصار کا استحقاق خلافت ثابت کرتے ہوئے جو کچھ کہا اس میں ایک جملہ یہ تھا : واللہ ما عبد واللہ علانیہ الا في بلادكم ولا جمعت الصلوة الا في مساجدکم (خدا کی قسم انھوں نے اللہ کی کھلی عبادت نہیں کی مگر صرف تمہاری سرزمین میں۔ اور نماز با جماعت ادا نہیں کی گئی مگر صرف تمہاری مسجدوں میں (یعنی مدینہ میں) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کے ذہن میں عبادت کا مفہوم کیا تھا۔ عبادت ان کے نزدیک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page