ڈائری
Urdu book, p. 276
By Maulana Wahiduddin Khan
پرستش کا نام تھی نہ کہ کسی اور چیز کا۔ ابو العباس احمد بن محمد بن کثیر الفرغانی (۹۰۳-۹۳۲ء) خلیفہ مامون رشید کے زمانہ کا مسلم سائنس داں ہے۔ وہ ترکستان کے شہر فرغانہ میں پیدا ہوا، اسی نسبت سے اس کو الفرغانی کہا جاتا ہے۔ مغربی مورخین اس کو الافریقا نوس کہتے ہیں۔ زمین کا محیط گھیرنا، ناپنے کی کوشش قدیم زمانہ سے جاری رہی ہے۔ یونانی ہیئت دانوں نے بھی زمین کا محیط ناپنے کی کوشش کی تھی۔ ان میں ارسطو اور بطلیموس کا نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ ارسطو نے اپنے بنائے ہوئے آلہ کے ذریعہ پیمائش کر کے بتایا تھا کہ زمین کا محیط ۲۵۹۶۲ میل ہے۔ الفرغانی نے خلیفہ متوکل عباسی کے زمانہ میں زمین کا محیط معلوم کرنے کی کوشش کی۔ الفرغانی اور اس کے ساتھیوں نے قدیم پیمانوں کے ذریعہ زمین کا جو محیط معلوم کیا وہ ۴۸۰۲ فرسخ تھا۔ یہ موجودہ پیمانہ کے لحاظ سے ۲۵۰۰۹ میل کے برابر ہوتا ہے۔ قدیم زمانہ میں جب کہ جدید پیمائش کے ذرائع حاصل نہ تھے، الفرغانی اور اس کے ساتھیوں کی یہ دریافت حیرت انگیز تھی۔ انھوں نے زمین کے محیط کی جو پیمائش بتائی وہ اصل سے بہت قریب تھی۔ موجودہ زمانہ کی پیمائش کے مطابق زمین کا اصل محیط ۲۲۸۵۸ میل ہے۔ ۲۴ مئی ۱۹۸۳ء نیکی اور بدی کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جن کا علم وحی کے ذریعہ ہوتا ہے۔ دوسری وہ جو ضمیر اور عقل کی سطح پر ہر انسان کو معلوم ہیں۔ نیکی اور بدی کی اسی دوسری قسم کو معروف اور منکر کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ کے لوگوں تک وحی کی ہدایت نہیں پہنچی ہے۔ مگر لوگوں کے اندر بڑھی ہوئی برائیوں کو دیکھئے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اخلاقی سطح پر ہی ڈسکرڈیٹ ہو رہے ہیں۔ وحی کی باتیں اگر لوگوں کو معلوم نہیں تو کیا انھیں عقل اور ضمیر کی باتیں بھی نہیں معلوم ہیں۔ کیا وہ معروف اور منکر کو بھی نہیں جانتے۔ پھر معروف اور منکر کے معاملہ میں لوگوں کی مجرمانہ غفلت کا ان کے پاس کیا جواز ہے۔ یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ آدمی جس چیز کی تلاش میں ہو، اسی کو وہ پا تا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader