Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 277

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ آدمی جس چیز کی تلاش میں ہو اس کے بارے میں اس کا شعور جاگتا ہے۔ اس کے لئے اس کے اندر تڑپ پیدا ہوتی ہے۔ اس کے بارے میں اس کی نظر اتنی تیز ہو جاتی ہے کہ جہاں وہ اس کو دیکھے فورا اسے پہچان لے۔ اب جس شخص کے اندر حق کی طلب جاگی ہو وہ حق کو دیکھے گا اور جس کے اندر باطل کی طلب جاگی ہو وہ باطل کو دیکھے گا۔ جو شخص اپنی بڑائی کا طالب ہو وہ دوسرے کی بڑائی کو دیکھنے میں ناکام رہے گا۔ جو شخص ناجی طریقہ پر فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہو وہ ان تعلیمات کا ران سمجھنے سے محروم رہے گا جن میں حق کا طریقہ اختیار کرنے کی خوبیاں بتائی گئی ہوں۔ جو شخص قومی مفاد کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے ہو وہ دعوتی مفاد کو سمجھنے سے قاصر رہے گا۔ وغیرہ۔ ۲۶ مئی ۱۹۸۴ آج کل ہر طرف احتساب کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ مگر یہ نام نہاد احتساب زمانہ اور کائنات کے احتساب کے لئے ہے نہ کہ اپنا احتساب کرنے کے لئے۔ زمانہ کا احتساب اور کائنات کا احتساب ، یہ سب محض الفاظ کے کھیل ہیں۔ یہ اپنی بے عملی کو بڑے بڑے الفاظ میں چھپانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ احتساب کرنے والا صرف وہ ہے جو اپنا احتساب کرے۔ جو اپنے آپ کو پیاز کے چھلکے کی طرح چھیل کر دیکھے کہ وہ کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔ جس نے دنیا میں اپنا احتساب کیا وہ آخرت کے حساب سے بچ جائے گا۔ اور جو شخص احتساب عالم کے نعرے لگائے اس کو اس قسم کے نقلی شعبدے خدا کی پکڑ سے بچانے والے ثابت نہیں ہو سکتے۔ ۲۷ مئی ۱۹۸۴ "مرد نے ہمیشہ عورت کو ستایا ہے ایک صاحب نے کہا۔ میں نے کہا کہ یوں نہ کہئے بلکہ یوں کہئے کہ قاتا تور ہمیشہ کمزور کو ستاتا ہے۔ یہ مسئلہ مرد اور عورت کا نہیں، بلکہ طاقت ور اور کمزور کا ہے۔ عورت جب نکاح کے بعد مرد کے گھر میں آتی ہے تو اکثر حالات میں وہ کمزور در حالت میں ہوتی ہے۔ اس لئے مرد اپنے کو اس کے مقابلہ میں اپنے کو طاقت ور پا کر اس کو ستاتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں جب کبھی عورت کی پوزیشن زیادہ طاقتور ہو جاتی ہے تو وہ مرد کو ستانے لگتی ہے۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ حالات سے کنٹرول ہوتے ہیں۔ ان کے جیسے حالات ہوں ویسے ہی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page