Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 278

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ بن جاتے ہیں۔ آدمی طاقت ور ہو، پھر بھی وہ کمزور کو نہ ستائے۔ آدمی برتر پوزیشن رکھتا ہو، پھر بھی وہ کنٹرول پوزیشن والے شخص کا احترام کرے، اس کے لئے ذہنی ڈیپلن کی ضرورت ہوتی ہے اور دنیا میں ہمیشہ ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جو ذہنی ڈسپلن کے ساتھ زندگی گزاریں۔ بیشتر لوگ وہ ہیں جو اپنے جذبات کے تابع ہوتے ہیں نہ کہ اپنی عقل کے تابع۔ ۲۸ مئی ۱۹۸۳ میں باتھ روم میں بڑے شیشے کے سامنے کھڑا تھا کہ اچانک مجھ پر ایک لمحاتی تجربہ گزراد - سامنے کے شیشے میں میرا پورا وجود کامل صورت میں کھڑا ہوا موجود تھا۔ وہ ٹھیک دیا ہی دکھائی دے رہا تھا جیسا کہ وہ شیشہ کے باہر فی الواقع تھا۔ اس وقت اچانک مجھے ایسا محسوس ہوا گویا میں انسان کے انحروی مٹی کو دیکھ رہا ہوں۔ ہر آدمی جو موجودہ دنیا میں ہے وہ اپنی سوچ اور اپنے عمل کے اعتبار سے اپنا ایک جوڑا یا اپنا شئی تخلیق کر رہا ہے۔ اس کا یہ شئی آخرت کی دنیا میں بن رہا ہے۔ موجودہ دنیا میں آدمی اپنے ظاہر کے مطابق ہوتا ہے۔ آخرت میں وہ اپنے باطن کے مطابق ہوگا۔ موجودہ دنیا میں آدمی کا ظاہری وجود بنتا ہے۔ آخرت میں آدمی کا باطنی وجود بن رہا ہے۔ موت کے بعد آدمی اپنے اس شئی کو پائے گا۔ میں نے جب اپنے وجود کو عین اس صورت میں بڑے شیشے میں دیکھا جیسا کہ وہ اس کے باہر تھا تو ایسا محسوس ہو گو یا میں آخرت کے معاملہ کو آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ دوسری دنیا کا ایسی موجودہ دنیا میں تجربہ کر رہا ہوں۔ ۲۹ مئی ۱۹۸۳ قرآن میں سب سے زیادہ زور جس چیز پر دیا گیا ہے وہ یہ کہ انسان صرف ایک خدا کو اپنا الہ مانے اور صرف اسی کی عبادت کرے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان صرف ایک خدا کو اپنی توجعات کا مرکز بنائے۔ خدا کو ایک انسان سے اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ نفسیاتی سراتنگدگی (psychological surrender) ہے ۔ موجودہ زمانہ کے بعض مسلم مفکرین نے اس نفسیاتی سراتنگدگی کو سیاسی سراتنگدگی (political surrender) کے معنی میں لے لیا۔ یہ زبردست گمراہی ہے۔ جو لوگ اس فکر سے متاثر ہوئے ان کے لئے اسلام کمیونسٹ نظام کی طرح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page