ڈائری
Urdu book, p. 279
By Maulana Wahiduddin Khan
بس ایک نظام بن گیا۔ اسلام کا اصل نشانہ انسان کی اپنی نفسیات ہے۔ مگر اس فکر نے اسلام کو ایک ایسی چیز بنا دیا جس کا فاتحانہ خارج میں ہو۔ چنانچہ اس فکر کے متاثرین خارجی سیاسی نظاموں سے ٹکرارہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ اسلام کو قائم کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ ۳۰ مئی ۱۹۸۳ قرآن کی سورہ نور کی آیت ہے : الله نور السموات و الارض (اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے) اس آیت کی تفسیر میں ابن کثیر نے لکھا ہے : وقرأ بعضهم : الله منور السماوات و الارض۔ وعن الضحاك : الله نور السموات والارض (بعض نے اس آیت میں نور کو منور پڑھا ، یعنی روشن کرنے والا۔ ضحاک نے اس کو نور پڑھا، یعنی اللہ نے روشن کیا) قدیم تفسیروں میں اس طرح کے فقرے جگہ جگہ آتے ہیں۔ اس سے بعض لوگوں نے یہ نکالا ہے کہ قرآن میں اختلافِ قرأت ہے۔ یعنی ایک آیت کو ایک عالم نے ایک انداز سے پڑھا اور دوسرے عالم نے اس کو دوسرے انداز سے پڑھا مگر یہ غلط فہمی ہے۔ اصل یہ ہے کہ یہ قرأت کا اختلاف نہیں۔ یہ قرأت تفسیری ہے نہ کہ قرأت اختلافی۔ یعنی مذکورہ عالم نے ”نور“ کو منور یا نور پڑھ کر لفظ نور کی تفسیر کی نہ کہ انھوں نے یہ بتایا کہ میرے نزدیک قرآن کی آیت اُس طرح نہیں ہے، اس طرح ہے۔ ۳۱ مئی ۱۹۸۳ انسان اس زمین کی سب سے زیادہ سرکش مخلوق ہے۔ وہ شیر اور بھیڑیے سے بھی زیادہ سرکشی کرتا ہے۔ کوئی دلیل یا کوئی شرافت انسان کو نہیں جھکاتی۔ وہ صرف اس وقت جھکتا ہے جب کہ اس کا سامنا ایسی طاقت سے ہو جس کے مقابلے میں وہ اپنے آپ کو بالکل مجبور پائے۔ انسان کی سرکشی کے بارے میں مجھے بے حد تلخ تجربات ہوئے ہیں۔ ان کو سوچتے ہوئے میری زبان سے نکلا : اللہ تعالیٰ کی ذات میں اگر وہ تمام صفتیں ہوتیں، جو قرآن میں بتائی گئی ہیں مگر اس کے پاس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader