Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

بڑے سرداروں کے بچے ہیں، ان کو آپ بندھک رکھ لیجئے اور پھر آپ کو موقع مل جائے گا کہ آپ دباؤ ڈال کر قلعہ والوں کو اپنی شرائط ماننے پر مجبور کرسکیں ۔ پلوٹارک کا بیان ہے کہ رومی جنرل یہ سن کر خوش نہیں ہوا۔ اس نے مذکورہ استاد کو بری طرح ڈانٹا اور کہا کہ ہمارا یہ طریقہ نہیں ہے کہ ہم کیمپین کے ساتھ قلعہ کو فتح کریں۔ ہم جو کچھ کریں گے بہادری کے ساتھ کریں گے۔ تم فوراً ان بچوں کو واپس لے جاؤ اور ہم کو قلعہ کا پوشیدہ راستہ بھی مت بتاؤ۔ استاد جب بچوں کو لے کر قلعہ کے اندر واپس آیا اور پوری کہانی بتائی تو اہل قلعہ بہت متاثر ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ ایسے شریف لوگوں سے ہمیں جنگ نہیں کرنی ہے۔ چنانچہ انھوں نے خود اپنی طرف سے قلعہ کے دروازے کھول دئے۔ شرافت اور بلند اخلاقی اس دنیا میں سب سے بڑی طاقت ہیں۔ اگرچہ نادان آدمی تشدد اور ہتھیار کو سب سے بڑی طاقت سمجھ لیتا ہے۔ ۹ فروری ۱۹۸۳ ہندوستان کا چھٹا عام الیکشن مارچ ۱۹۸۲ء میں ہوا۔ اس الیکشن میں جامع مسجد دہلی کے شاہی امام سید عبداللہ بخاری نے کانگریس کے مقابلہ میں جنتا پارٹی کا ساتھ دیا۔ الیکشن کے دوران وہ کانگریس کی مخالفت اور جنتا پارٹی کی حمایت میں دھواں دھار تقریریں کرتے رہے۔ ایمرجنسی کے نفاذ کی وجہ سے ہندوستانی عوام اندرا گاندھی اور کانگریس کے خلاف ہوگئے تھے۔ چنانچہ الیکشن ہوا تو جنتا پارٹی جیت گئی اور کانگریس کو بری طرح شکست ہوئی۔ ۲۴ مارچ کو اس جیت کی خوشی میں رام لیلا گراؤنڈ (دہلی) میں جلسہ ہوا اس میں جنتا پارٹی کے تمام لیڈر موجود تھے۔ سید عبداللہ بخاری نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا " آج سارے ہندوستان کے ہندو اور مسلمان ایک ہیں۔ عربوں کا جہاں خون گرے گا وہاں ہندوستان کا بھی خون گرے گا" اسٹیج پر بیٹھے ہوئے ایک ہندو لیڈر نے کہا " نہیں ، جہاں عربوں کا پسینہ گرے گا وہاں ہمارا خون گرے گا" اور پھر تالیوں سے جلسہ گاہ گونج اٹھی۔ ۲۵ مارچ ۱۹۸۲ء کو جمعہ تھا۔ جامع مسجد میں رویندر پرتاپ سنگھ (جیسے گاندھی کو ہرانے والے جنتا امیدوار ) کا استقبال ہوا۔ اس موقع پر امام بخاری اور رویندر پرتاپ دونوں نے تقریریں کیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page