Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 280

By Maulana Wahiduddin Khan

طاقت نہ ہوتی تو انسان اللہ کے آگے کبھی جھکنے کے لئے تیار نہ ہوتا۔ یکم جون ۱۹۸۴ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ اعلیٰ انسان کی تعریف ایک لفظ میں کیا ہے ، تو میں کہوں گا کہ اعلیٰ انسان وہ ہے جو سچائی کے انکار کا تحمل نہ کر سکتا ہو ، جو خلاف حق روش اختیار کرنے کے بعد زندہ نہ رہ سکے۔ ۲ جون ۱۹۸۴ ابراهیم بلخی کا قول ہے : تعرف تقوى الرجل في ثلاثة اشياء ۔ فی اخذه وفى منعه و في كلامه ۔ یعنی تم کسی شخص کے تقویٰ کو پہچاننے کے لئے اس کی تین چیزوں کو دیکھو۔ وہ کس چیز کو اپناتا ہے۔ وہ کس چیز سے باز رہتا ہے۔ اور یہ کہ وہ کیا بات کرتا ہے۔ یہ تینوں چیزیں آدمی کے ذوق کو بتاتی ہیں ۔ اور کسی آدمی کا ذوق انتخاب بلاشبہ وہ اہم ترین معیار ہے جس کے ذریعہ اس کی حقیقی شخصیت کو جانا جاسکے۔ ۳ جون ۱۹۸۴ شاہ یعقوب مجددی ( بھوپال ) نے کسی شخص کو دیکھا کہ وہ ایک سنت (غالباً داڑھی) کو چھوڑے ہوئے ہے۔ انھوں نے اس شخص سے کہا کہ تم کو اس سنت پر عمل کرنا چاہئے۔ مذکورہ شخص بے پروائی کے ساتھ بولا : جناب ، یہ سنت ہی تو ہے ۔ شاہ یعقوب مجددی نے فرمایا : بے شک یہ عمل سنت ہے۔ لیکن تیرا لہجہ کفر ہے۔ بے عملی گناہ ہے۔ مگر سرکشی اس سے بھی زیادہ بڑا گناہ ہے۔ بے عملی کے ساتھ اگر شرمندگی ہو تو شاید اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو معاف کردے۔ مگر جو شخص بے عملی کے ساتھ سرکشی دکھار ہا ہو وہ کسی طرح قابل معافی نہیں۔ مصطفیٰ ریاض پاشا (۱۱۹۱۱ - ۱۸۳۳) مصری حکومت میں وزیر تھا۔ وہ جمال الدین افغانی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page