Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 281

By Maulana Wahiduddin Khan

(۱۸۹۴-۱۸۳۸ء) سے متاثر تھا۔ جمال الدین افغانی جب مصر آئے تو اس نے ان کو جامعہ ازہر میں استاد مقرر کرا دیا اور ان کو مصر میں دینی کام کے مواقع دیے۔ مگر جمال الدین افغانی کے نزدیک سب سے بڑا کام سیاست تھا۔ انھوں نے محسوس کیا کہ مصر کی موجودہ حکومت برطانیہ کے زیر اثر ہے۔ چنانچہ وہ مصری حکومت کے خلاف ہو گئے، نتیجہ یہ ہوا کہ دہر سے نکال دیئے گئے اور مصر میں کوئی خاص دینی اور تعمیری کام نہ کر سکے۔ موجودہ زمانہ کے تمام مسلم لیڈر اس قسم کی جھوٹی سیاست میں مبتلا رہے ہیں۔ اس سیاست نے عملاً تو مسلمانوں کو کچھ نہیں دیا، البتہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لے ہوئے مواقع برباد ہو کر رہ گئے۔ وہ پہلے ہی مرحلہ میں "کل" کی طرف دوڑے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ کل سے بھی محروم رہے اور جزو سے بھی۔ ۵ جون ۱۹۸۲ مولا نا سید احمد اکبر آبادی مرحوم ۳۱ دسمبر ۱۹۷۱ء کو ہمارے دفتر (جمعیتہ بلڈنگ) میں آئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ مولانا شبیر احمد عثمانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ بیان کیا کرتے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ حضرت عمر نے ایک بار ایک چادر لی اور اس کو اوڑھ کر اپنا منہ ڈھانپ کر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر بعد چادر ہٹائی اور فرمایا: نہیں هذا من الاسلام (شق اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں) اس کے بعد حضرت عمر نے چادر کو دونوں کندھوں پر ڈال لیا اور سینہ تان کر بیٹھ گئے اور فرمایا: هذا هو الاسلام (اسلام حقیقہ یہ ہے) ۶ جون ۱۹۸۲ شیخ مجیب الرحمن جنرل یحییٰ خاں کے زمانہ میں پاکستان میں قید کر لئے گئے تھے۔ اس کے بعد بھٹو کے زور دینے پر وہ رہا کئے گئے ۔ وہ پاکستان کی قید سے رہا ہو کر مخصوص ہوائی جہاز کے ذریعہ ۳ جنوری ۱۹۷۱ کو لندن پہنچے۔ اس وقت ہوٹل کلیریج میں ہندوستانی ہائی کمشنر مسٹر آرای پی سنت نے مل کر ان کو مسٹر گاندھی کی مبارک باد پیش کی ۔ شیخ مجیب نے ہندوستانی وزیر اعظم کی مبارک باد سن کر تو ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے ۔ ان کی زبان سے نکلا کہ وہ ایک عظیم خاتون ہیں: She is a great lady, a grand lady.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page