ڈائری
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلم حاضرین اس قدر جوش میں تھے گویا کہ انھوں نے دوبارہ ہندوستان فتح کر لیا ہے۔ مولوی بشیر احمد ارشاد امینی (میواتی) میرے قریب بیٹھے تھے۔ وہ جذبات سے بے قابو ہو کر کھڑے ہو گئے اور چلانا کر کہنے لگے : شاہی امام زندہ باد، شاہی امام زندہ باد۔ یہ تو وہاں کے مسلمانوں کا حال تھا اور میرا حال یہ تھا کہ میں مسلسل رورہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ کیا اس قسم کی گند باقی قوم دنیا میں اپنے لئے کوئی جگہ پاسکتی ہے۔ ۲۶ مارچ ۱۹۷۷ کو پرانی دہلی کی دیواروں پر بڑے بڑے اردو پوسٹر نظر آئے۔ ان پر جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا : ۶۲ کروڈ عوام کے بے تاج بادشاہ مولانا سید عبداللہ بخاری یہ سیرت کے ایک جلسہ کا پوسٹر تھا جس میں امام نجاری شرکت کرنے والے تھے اور اس میں ان کا نام مذکورہ شاندار الفاظ میں درج کیا گیا تھا۔ دورِ اول میں مسلمانوں کو کبھی فتوحات حاصل ہوئیں تب بھی انھوں نے اس قسم کی خوشیاں نہیں منائیں اور نہ کسی نے ان کی زبان سے اس قسم کے بڑے بڑے الفاظ سنے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان اپنی مزعومہ فتوحات پر اس طرح خوشیاں مناتے ہیں جیسے کہ انھوں نے ساری دنیا فتح کر لیا ہو۔ حالانکہ بار بار کے واقعات یہ بتاتے رہے ہیں کہ ان کی یہ فتوحات بھی جھوٹی تھیں اور یہ خوشیاں بھی جھوٹی۔ ۱۰ فروری ۱۹۸۳ لوئی ہیتھہ لیر (Louise Heath Leber) نے کہا ہے کہ ارتقا کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے۔ یہ گھر کا سب سے بڑا کمرہ ہے : There’s always room for improvement. It’s the biggest room in the house. تاہم یہ بات صرف انسانی مصنوعات کے لئے صحیح ہے، خدائی مصنوعات کے لئے یہ بات صحیح نہیں۔ مکان نئے نئے قسم کے بنتے ہیں۔ کار کے ماڈل میں ترقی ہوتی رہتی ہے۔ ٹائپ رائٹر ایک کے بعد دوسرا آتا ہے جو پہلے سے بہتر ہوتا ہے اور زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ مگر قدرت نے جو چیزیں بنائی ہیں، ان میں سے ہر چیز اپنے آخری ماڈل پر بنی ہے۔ ہر چیز گو یا آخری معیاری نمونہ ہے جس میں کوئی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader