ڈائری
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
مزید ترقی کم از کم انسان کے لئے ممکن نہیں۔ انسان کا ماڈل آخری ماڈل ہے۔ کوئی آرٹسٹ آج تک " انسان " کے لئے دوسرا اس سے بہتر ماڈل تجویز نہ کر سکا، اسی طرح شیر، بلی، درخت ، گھاس ، غرض ہر چیز چھوٹی بڑی چیز کی صورت اپنی آخری حد پر ہے۔ وہ جس ماڈل پر بنی ہے ، اس کے لئے اس سے بہتر کوئی اور ماڈل تصور میں لانا ممکن نہیں۔ یہ ایک واضح ثبوت ہے کہ اس کائنات کی تخلیق کے پیچھے ایک کامل خدا کا ہاتھ ہے۔ کائنات اگر محض اندھے ارتقائی عمل کے ذریعہ وجود میں آتی تو یہ ناممکن تھا کہ اس میں کاملیک کی صفت پائی جائے ۔ ۱۱ فروری ۱۹۸۳ عن سهل بن معاذ عن ابيه ـ قال غز و نامع النبي صلى الله عليه وسلم ـ فضیق الناس منازل وقطعوا الطريق ـ فبعث النبی صلی اللہ علیہ وسلم منادياً ينادى في الناس ان من ضيق منه طريقا وقطع طريقاً فلا جهاد له (ابو داؤد) سہل بن معاذ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کیا۔ راستہ میں پڑاؤ ہوا تو لوگوں نے خیمے قریب قریب لگائے اور راستہ تنگ کر دیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کو بھیج کر لوگوں کے درمیان اعلان کرایا کہ جو شخص راستہ میں تنگی پیدا کرے گا یا راستہ کو کاٹے گا تو اس کا جہاد جہاد نہیں۔ اس واقعہ سے اسلام کی اسپرٹ معلوم ہوتی ہے۔ جہاد کا ثواب قرآن وحدیث میں بہت زیادہ بتایا گیا ہے۔ مگر انسانی حقوق کے بارہ میں معمولی لاپرواہی بھی اتنی سنگین ہو سکتی ہے کہ وہ آدمی کے جہاد کو غیر مقبول بنا دے۔ ۱۲ فروری ۱۹۸۳ وہ لوگ دنیا سے ختم ہوتے جا رہے ہیں جن کو دلیل کے ذریعہ قائل کیا جا سکے ۔ آدمی وہیں مانتا ہے جہاں اس کے لئے ماننے کے سوا کوئی اور چارہ نہ ہو۔ جب تک ماننا اس کی مجبوری نہ بن جائے ، وہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ موجودہ دنیا دلیل سے چپ ہونے کی جگہ ہے اور آخرت طاقت سے چپ ہونے کی جگہ۔ خدا جب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader