ڈائری
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
گرو نانک کا جو کلام موجود ہے، اس میں سے دو شعر یہ ہیں: برے نال سب برا کیرندے معاف کرن کچہ سیانے برے نال پھر بھلا کرنا ایہ گرو نانک جانے یعنی عام لوگ برائی کے بدلے میں برائی کرتے ہیں۔ مگر جو ہوشیار ہیں وہ برائی کو معاف کر دیتے ہیں۔ اور اس سے بھی اونچی بات یہ ہے کہ جب کوئی شخص تمہارے ساتھ برائی کرے تو تم اس کے ساتھ بھلائی کرو۔ برائی کو نظر انداز کرنا یا برائی کے بدلے میں بھلائی کرنا یہ بزدلانہ فعل نہیں۔ یہ انتہائی دانش مندی کی باتیں ہیں۔ اگر چہ سطحی انسان اس راز کو نہیں جانتا۔ ۱۷ فروری ۱۹۸۳ اکتوبر ۱۹۷۵ء میں یہ خبر آئی تھی کہ زیرو رستم جی داروو الا نے اپنا ایک گر دہ حمید دل وائی کو دے دیا تاکہ ان کی صحت کو بچایا جا سکے۔ ۳۳ سالہ داروو الا جو ابھی غیر شادی شدہ تھے، ۳۱ دسمبر ۱۹۷۵ء کو انہیں پر اد و اجمیل میں پھانسی دے دی گئی۔ جو لوگ حمید دل وائی سے اختلاف رکھتے ہیں، وہ شاید یہ سمجھیں کہ ایک "دشمنِ اسلام" کی مدد کرنے کے نتیجہ میں داروو الا کو یہ سزا ملی، مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ دارو والا پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے ۲ فروری ۱۹۷۱ء کو ایک پارسی خاندان کے چار افراد کو قتل کر دیا ہے۔ ۲۲ دسمبر ۱۹۷۱ء کو مقدمہ کا فیصلہ ہوا اور دارو والا مجرم قرار دیئے گئے۔ یہ واقعہ جو "گردہ دان" سے چار سال پہلے واقع ہوا تھا، اسی کے جرم میں دارو والا کو پھانسی دی گئی۔ اکثر خارق عادت واقعات اسی قسم کے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ تاریخ، مقام، اشخاص وغیرہ کے تعینات کے بغیر مجہول شکل میں بیان کئے جاتے ہیں۔ اگر ان کو تعین کے ساتھ بیان کیا جائے تو تحقیق کے بعد فورا اس کی حقیقت کھل جائے گی۔ مستعین تحقیق بتائے گی کہ اس "کرامت" کا راز یہ تھا کہ کہیں کی بات کہیں جوڑ دی گئی۔ اس دنیا میں ہر بات تحقیق کے بعد ماننا چاہئے۔ یہی سنجیدگی اور ذمہ داری کا تقاضا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader