Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کا ماخذ بنیادی طور پر قرآن ہے۔ اس کے بعد حدیث اور سیرت۔ مگر حدیث اور سیرت کے سلسلہ میں ایک دقت یہ ہے کہ اس کی ترتیب قرآن کی ترتیب پر قائم نہ ہوسکی۔ حدیث کی تدوین کا کام زیادہ تر فقہ کے ردعمل میں ہوا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حدیث کی ترتیب میں فقہ کا پیٹرن رائج ہو گیا۔ فقہ کے ابواب مسائل کی بنیاد پر قائم کئے گئے تھے، اسی طرح حدیث کے ابواب بھی مسائل کی بنیاد پر قائم کر دئے گئے۔ میں ذاتی طور پر مسانید کی ترتیب کو زیادہ سائنٹفک سمجھتا ہوں۔ سیرت نگاری کا کام اس زمانہ کی تاریخ نگاری سے متاثر ہوا۔ اس زمانہ میں تاریخ جنگوں اور فتوحات کا نام تھی۔ چنانچہ اس کے زیر اثر سیرت کو بھی "کتاب المغازی" بنا دیا گیا۔ حتیٰ کہ ہمارے سیرت نگار حدیبیہ کا واقعہ لکھتے ہیں تو اس پر یہ عنوان قائم کرتے ہیں: غزوہ حدیبیہ۔ حالانکہ حدیبیہ کے سفر کا غزوہ سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ صرف عمرہ کا سفر تھا نہ کہ غزوہ کا سفر۔ بعد کو سیرت پر جو کتابیں لکھی گئیں وہ بھی اسی ابتدائی پیٹرن پر لکھی گئیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سیرت رسول عملاً غزوات کی کتاب ہو کر رہ گئی۔ ضرورت ہے کہ احادیث کا ازسرنو جائزہ لے کر صحیح نبوی پیٹرن پر سیرت کی کتاب لکھی جائے۔ ۱۹ فروری ۱۹۸۳ ایک دلچسپ لطیفہ نظر سے گزرا: اگر کرسٹوفر کولمبس کی ایک بیوی ہوتی تو کیا وہ امریکہ دریافت کر سکتا تھا۔ وہ کہتی کہ تم کہاں جا رہے ہو، کس کے ساتھ جا رہے ہو، کیا مقصد ہے، تمہارے جانے کے بعد واپس آؤ گے، اور کہاں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page