ڈائری
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
پاس وسائل نہیں تھے، اس نے ملکۂ اسپین سے درخواست کی۔ چنانچہ ملکہ نے ۱۴۹۲ء میں اس کو تین جہاز دئے۔ انہیں جہازوں کے ذریعہ اس نے اٹلانٹک پار کر کے امریکہ کو دریافت کیا۔ مذکورہ لطیفہ دلچسپ انداز میں یہ بتا رہا ہے کہ عورتوں کی فکر محدود ہوتی ہے۔ وہ ہمیشہ گھریلو دائرہ میں سوچتی ہیں۔ گھیرے باہر کے دائرے میں سوچنا عام طور پر ان کے لئے ممکن نہیں ہوتا۔ عورت کا یہ مزاج بذات خود نہایت صحیح اور مفید ہے۔ عورت کو گھر کے انتظام کے لئے بنایا گیا ہے۔ اس لئے اس کی فکر بھی پیدائشی طور پر داخلی فکری ہوتی ہے۔ غلطی دراصل وہاں سے شروع ہوتی ہے جب کہ عورت کو گھر کے دائرہ سے نکال کر مصنوعی طور پر باہر کے دائرہ میں کھڑا کر دیا جائے۔ ۲۰ فروری ۱۹۸۳ جارج ہر برٹ (George Herbert) نے کہا کہ بڑے بڑے محل پتھروں کے جنگل ہیں: Castles are forests of stones. یہ ایک حقیقت ہے کہ بڑے بڑے محل اعلیٰ انسانی احساسات کا قبرستان ہوتے ہیں۔ مگر لوگ قدروں سے زیادہ پتھروں کو اہمیت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ محلوں کو رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اگر لوگ چیزوں کو اعلیٰ قدروں کی بنیاد پر جانچ سکیں تو انہیں اپنے اپنے محلوں سے وحشت ہونے لگے۔ ۲۱ فروری ۱۹۸۳ دعوت مسلمانوں کا تعلق دوسری قوموں سے محبت کی بنیاد پر قائم کرتی ہے، اور قومیت مسلمانوں کا تعلق دوسری قوموں سے نفرت کی بنیاد پر۔ یہی ایک لفظ میں مسلمانوں کے ماضی اور حال کا خلاصہ ہے۔ دور اول کے مسلمان ”دعوت“ کی بنیاد پر اٹھے تھے، اس لئے ان کے دل دوسروں کے لئے محبت اور خیر خواہی سے بھرے ہوئے تھے۔ وہ جہاں گئے ہر جگہ ان کا استقبال کیا گیا۔ اس کے برعکس موجودہ زمانہ کے مسلمان ”قومیت“ کی بنیاد پر کھڑے ہونے ہیں، اس لئے ان کے دل دوسروں سے نفرت سے بھرے ہوئے ہیں۔ وہ دوسرے کو دوسرے کے بجائے ایک مجرم اور لٹیرے کے سوا اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader