Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

کچھ نہیں۔ آج کی دنیا میں کوئی علاقہ نہیں جہاں مسلمانوں کو عزت اور محبت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو۔ مسلمانوں کا کام صرف اتنا ہے کہ وہ دوسری قوموں کو اپنے دل میں جگہ دیں، اس کے بعد دوسری قومیں انہیں وسیع زمین پر جگہ دینے کے لئے تیار ہو جائیں گی۔ ۲۲ فروری ۱۹۸۳ الور (راجستھان) میں ایک میوزیم ہے۔ یہ کافی بڑا ہے اور اس میں قدیم زمانہ کی بہت ہی نادر چیزیں رکھی ہوئی ہیں۔ اس کے ایک حصہ میں راجاؤں اور بادشاہوں کی تلواریں ہیں۔ انہیں میں سے ایک تلوار وہ ہے جو ۱۵۳۰ء میں بنائی گئی تھی۔ اس پر صانع کو بتانے کے لئے "عمل محمد صادق کابل" لکھا ہوا ہے۔ یہ مغل شہنشاہ اکبر کی تلوار تھی۔ اس پر فارسی کا یہ شعر درج ہے : ہر بسکہ شمشیر من کار کرد یکے را دو کرد و دور اچہار کرد میری تلوار جہاں بھی چلی، اس نے ایک کو دو ٹکڑے کر دیا اور دو کو چار ٹکڑے کر دیا۔ ساڑھے چار سو سال پہلے تلوار پر لکھا ہوا یہ شعر ہر ایک کو مکمل طور پر با معنی معلوم ہوتا ہوگا۔ مگر آج وہ مکمل طور پر بے معنی ہے۔ آج اگر کسی شخص کو یہ تلوار حاصل ہو جائے تو وہ ان کار ناموں میں سے کوئی بھی کارنامہ انجام نہیں دے سکتا، جو اس تلوار نے چار سو سال پہلے کے دور میں انجام دیا۔ یہ زمانہ کا فرق ہے۔ مگر مسلمان آج بھی دنیا میں اسی طرح جی رہے ہیں، جیسے کہ انہیں زمانہ کے فرق کی بابت کچھ خبرنہیں۔ ۲۳ فروری ۱۹۸۳ امام اوزاعی اسلام کی تاریخ میں بہت بڑے عالم گزرے ہیں۔ انھوں نے ایک بار عباسی خلیفہ المنصور کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ بادشاہ چار قسم کے ہوتے ہیں۔ بادشاہ کی چوتھی قسم جو انھوں نے بتائی وہ ایسا بادشاہ تھا جو خود تو بدعنوانی کرتا ہو اور اپنے ماتحتوں کو بدعنوانی سے بچنے کی تاکید کرے ۔ امام اوزاعی نے اس چوتھی قسم کے بادشاہ کے بارہ میں) کہا کہ یہ بہت بڑا ہوشیار ہے۔ (فذالف شر الکباس) موجودہ زمانہ کے ہندوستانی حکمران اسی چوتھی قسم میں آتے ہیں۔ وہ خود ہر قسم کی سیاسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page