ڈائری
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
اور مالی بدعنوانی کر رہے ہیں۔ اور اس کے بعد سرکاری ملازموں کے نام سرکلر جاری کرتے ہیں کہ انتظامیہ کو کرپشن اور بدعنوانی سے پاک کیا جائے ۔ اس قسم کی باتیں مسخرہ پن کے سوا اور کچھ نہیں۔ یحییٰ بن یعمر ایک تابعی عالم تھے۔ حجاج بن یوسف نے ایک بار ان سے پوچھا کہ میں لحن (یعنی اعراب) میں غلطی تو نہیں کرتا۔ یحییٰ بن یعمر نے جواب دیا: ترفع ما يخفض وتخفض ما يرفع۔ حجاج کے سوال کے مطابق اس جملہ کا ایک مطلب یہ تھا کہ تم کسره (زیر) کی جگہ رفع (پیش) کہتے ہو۔ اور رفع کی جگہ کسره کہتے ہو۔ اسی کے ساتھ اس کا دوسرا مطلب یہ بھی نکلتا تھا کہ تم بے انصاف ہو۔ اور جو شخص پستی کا مستحق ہے اس کو بلند کرتے ہو، اور جو شخص بلندی کے قابل ہے اس کو پست کرتے ہو۔ حجاج بن یوسف اس عالمانہ جواب پر بہت خوش ہوا اور یحییٰ بن یعمر کو خراسان کا قاضی مقرر کر دیا۔ (ابن خلکان) یحییٰ بن یعمر کا جواب ایک اعتبار سے تنقیدی تھا۔ دوسرے اعتبار سے وہ مجیب کی ذہانت اور قابلیت کو بتا رہا تھا۔ حجاج بن یوسف کو جواب کے دوسرے پہلو نے اتنا متاثر کیا کہ پہلا پہلو اس کی نظر میں غیر اہم بن گیا۔ اگر وہ صرف پہلے پہلو کو دیکھتا تو وہ یحییٰ بن یعمر کو سزا دیتا۔ مگر دوسرے پہلو کی قدر دانی کرتے ہوئے ان کو اس نے ایک اعلیٰ عہدہ پر مقرر کر دیا۔ انسانوں کی ہی وہ قسم ہے جس کو صاحب ذوق انسان (Man of taste) کہا جاتا ہے۔ ۲۵ فروری ۱۹۸۳ امام احمد بن حنبل نے کہا تھا: تین چیزوں کی کوئی اصل نہیں۔ تفسیر اور ملاحم اور مغازی۔ حافظ عراقی کا ایک شعر ہے : وَيُعْلَمُ الطَّالِبُ السَّيْرَ تُجْمَعُ مَاتَحَ صَحَّ وَمَا قَدْ أَنْكَرَ طالب علم کو جاننا چاہئے کہ سیرت کی کتابوں میں صحیح روایتیں بھی جمع کی جاتی ہیں اور غیر صحیح روایتیں بھی۔ مثلاً طبرانی وغیرہ میں یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ ابو امامہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ اللہ نے جنت میں مریم بنت عمران، موسیٰ کی بہن کلثوم اور فرعون کی عورت آسیہ کو میری بیوی بنایا ہے (عن ابي امامة قال سمعت النبي صلى

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader