ڈائری
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
بنت عمران و کلثوم اُخت موسی و امرأة فرعون)، مذہبی داستان گوئی قدیم زمانہ سے لوگوں کا ذوق رہا ہے۔ اس قسم کے لوگوں نے بے شمار بے بنیاد قسم کے قصے کہانیاں گھڑے اور ان کو سیرت کے نام پر پھیلا دیا۔ یہ بے بنیاد قصے اسلامی کتابوں میں شامل ہوگئے اور واعظوں نے ان کو بیان کرنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ وہ اتنے زیادہ شائع ہو گئے کہ ان کو ختم کرنا ہی ممکن نہ رہا۔ محقق علماء نے موضوعات حدیث کے بارہ میں نہایت قیمتی کتا بیں لکھی ہیں۔ قدیم کتابوں کے علاوہ موجودہ زمانہ میں لکھی جانے والی کتابوں میں سلسلہ الاحادیث الضعيفة والموضوعة للألبانی نہایت مفید کتاب ہے۔ مگر جو باتیں عوامی سطح پر پھیل جائیں ان کو علمی کتابوں کے ذریعہ ختم کرنا ممکن نہیں۔ کتنے ظالم تھے وہ لوگ جنہوں نے دین میں اس قسم کے لغو اضافے کئے۔ ۲۶ فروری ۱۹۸۳ اورنگ زیب عالمگیر ایک متنازعہ شخصیت بنا ہوا ہے ۔ ہندو کہتے ہیں کہ اورنگ زیب ہندو دشمن تھا۔ اس نے مندروں کو ڈھایا۔ مسلمان کہتے ہیں کہ یہ غلط ہے۔ کیوں کہ ہندوستان میں ایسے مندر میں جہاں اب بھی اورنگ زیب کے شاہی فرمان موجود ہیں جو اس کی تردید کرتے ہیں۔ مثلاً اتر پردیش کے قصبہ چترکوٹ میں ایک مندر ہے۔ یہاں شہنشاہ اورنگ زیب کا ایک شاہی فرمان موجود ہے۔ یہ فرمان اورنگ زیب کی تخت نشینی کے ۳۵ ویں سال ۱۲ جون ۶۹۱ ۱ کو لکھا گیا تھا۔ اس شاہی فرمان میں بالک داس کو دی جانے والی زمین کی حدود و متعین کرنے کا حکم ہے اور یہ بھی درج ہے کہ اس زمین پر مالگذاری یا دوسرے ٹیکس نہیں لیں گے۔ اس میں ان آٹھ گاؤں کا ذکر کیا گیا ہے جن کی آمدنی بہت کو ملتی تھی۔ اس دستاویز پر اورنگ زیب کے وزیر ریاست سعادت خاں کی مہر ہے اور دہ بہر مند خاں کا تب کی لکھی ہوئی ہے۔ یہ بات بجائے خود صحیح ہے۔ مگر یہی کل بات نہیں ہے۔ تصویر کا ایک رخ اور بھی ہے ۔ اس سلسلہ میں ہم یہاں ایک اقتباس نقل کرتے ہیں:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader