ڈائری
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
"آثار عالمگیری" کا مصنف بڑے فخر سے لکھتا ہے کہ غیر مسلم افراد حتى الوسع عہدۂ ہائے جلیلہ پر فائز نہیں کئے جاتے تھے اور تمام ممالک محروسہ میں غیر اسلامی معاہد اور پرستش گاہوں کا ایسا خاتمہ ہوا اور ان کی جگہ اس قدر کثرت سے مساجد تعمیر کرائی گئیں کہ ان کے شمار و تعداد کو قبول کرنے سے عقل حیران رہ جاتی ہے۔" مسلمانوں کا عروج و زوال، از مولانا سید احمد ایم اے، مطبوعہ ندوة المصنفین دہلی، ۱۹۷۲ء، صفحہ ۳۱ اگر اورنگ زیب نے کچھ مندروں کو عطیات دئے۔ اور دوسرے کچھ مندروں کو ڈھٹایا تو پہلے عمل سے دوسرا عمل صحیح ثابت نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اورنگ زیب کا دوسرا عمل یقینی طور پر غلط تھا، خواہ اس نے اس کے سوا کتنے ہی صحیح عمل کئے ہوں۔ دہلی کی عظیم الشان جامع مسجد بھی آثار قدیمہ کے تحت ہے اور صفدر جنگ کی چھوٹی مسجد بھی آثار قدیمہ کے تحت ہے۔ ہندوستان کی موجودہ حکومت نے صفدر جنگ کی مسجد پر تالا ڈال رکھا ہے۔ دوسری طرف اسی حکومت نے جامع مسجد کو پوری طرح مسلمانوں کے لئے کھول دیا ہے۔ مزید یہ کہ اس نے مسجد کے چاروں طرف صفائی کرا کر ایک وسیع رقبہ مسجد میں شامل کر دیا ہے جہاں اس سے پہلے مختلف قسم کی ذاتی تعمیرات کھڑی ہوئی تھیں۔ مگر مسلمان ایسا نہیں کرتے کہ وہ صفدر جنگ کی مسجد کے واقعہ کو نظر انداز کریں اور جامع مسجد کے واقعہ کو بیان کرکے حکومت کی تعریف کریں۔ پھر مسلمان کیوں یہ امید رکھتے ہیں کہ ہند ولوگ اورنگ زیب کے چتر کوٹ مندر کے واقعہ کو یاد رکھیں گے اور دوسرے مندروں کے ساتھ اس کے سلوک کو بالکل بھلا دیں گے۔ ۲۷ فروری ۱۹۸۳ء نئی دہلی کی ایک کالونی کا واقعہ ہے۔ سڑک پر صفائی کرنے والی ایک ہر جن عورت ایک "کوٹھی" والی عورت سے لڑگئی ۔ دیر تک دونوں میں تیز کلامی ہوتی رہی ۔ آخر میں ہر جن عورت نے کہا : " تم اپنی امیری میں مست ہو ، ہم اپنی غریبی میں مست ہیں۔" یہ موجودہ زمانہ کے انسان کی بہترین تصویر ہے۔ آج کے انسان کا واحد مشترک ذہن بد دماغی ہے۔ ہر آدمی بد دماغی میں مبتلا ہے ، خواہ وہ امیر ہو یا غریب ، اور خواہ وہ جاہل ہو یا پڑھا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader