Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 40

By Maulana Wahiduddin Khan

جدید تحقیقات نے بتایا کہ دونوں صنفوں کے درمیان اس فرق کا سبب حیاتیات میں ہے۔ یعنی دونوں کی حیاتی بناوٹ میں فرق ہے۔ اس لئے معاشرہ کے اندر بھی دونوں کے درجہ میں فرق ہو جاتا ہے۔ اب مساوات مردوزن کے حامی "ڈارون نرم" کے تحت اس کی توجیہہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عورت ارتقائی عمل میں زیادہ ابتدائی درجہ میں رہ گئی۔ جبکہ ڈارون نے خود کہا ہے کہ "مرد بالا آخر عورت کے مقابلہ میں برتر ہو گیا۔" ۲ مارچ ۱۹۸۳ مسلمانوں کے ایک شاعر نے دور ماضی میں کہا تھا: ہر کہ شمشیر زند سکہ بہ نامش خواند موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آج بھی وہ اسی تخیل کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ حالاں کہ یہ شعر جس زمانہ میں کہا گیا تھا وہ زمانہ بدل گیا۔ قدیم زمانہ میں اگر شمشیر زنی کرنے والوں کے نام سے سکہ ڈھالا جاتا تھا تو اب علم میں مہارت دکھانے والوں کا سکہ دنیا میں رواں ہوتا ہے۔ زمانہ کے اس فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے مسلمانوں نے اپنے "حال" کو کھو دیا ہے۔ اگر وہ اب بھی اس حقیقت کو نہ سمجھیں تو وہ اپنا "مستقبل" بھی کھو دیں گے۔ اس بے دانشی کے ساتھ مسلمانوں کے لئے بربادی کے سوا کوئی دوسری چیز اس عالم اسباب میں مقدر نہیں۔ ۳ مارچ ۱۹۸۳ ابوبکر بن عباس خوارزمی (۳۸۳ - ۳۲۳ھ) فصاحت و بلاغت میں ضرب المثل تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ارجان میں صاحب بن عباد وزیر سے ملنے گئے۔ دروازہ پر پہنچے تو دربان اندر گیا اور صاحب سے جا کر کہا کہ دروازہ پر ایک دادیہ آپ سے ملنے کی اجازت چاہتے ہیں اور وزیر نے کہا کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page