ڈائری
Urdu book, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
اسے عرب کے ۲۰ ہزار اشعار زبانی یاد نہ ہوں"۔ خوارزمی نے یہ بات سنی تو دربان سے کہا جاؤ ان سے دریافت کرو کہ وہ ۲۰ ہزار مردوں کے یا عورتوں کے۔ یہ سن کر وزیر ٹھنڈا پڑ گیا۔ اس نے کہا کہ یہ ابو بکر خوارزمی معلوم ہوتے ہیں۔ اور فوراً ان کو اندر بلا لیا۔ بعض کلام ایسے ہوتے ہیں کہ صرف الفاظ ہی آدمی کو سفر کرنے کے لئے کافی ہو جاتے ہیں۔ ۴ مارچ ۱۹۸۳ "گیتا نجلی" رابندر ناتھ ٹیگور کی مشہور کتاب ہے۔ اسی کتاب کے انگریزی ترجمہ پر ان کو نوبیل انعام ملا تھا۔ یہ کتاب اصلاً بنگلے زبان میں لکھی گئی تھی۔ اس کے بعد اس کا ترجمہ مختلف زبانوں میں ہوا۔ اس کی ایک نظم کا دوسرا مصرع یہ ہے : میں تجھ کو چاہتا ہوں، صرف تجھ کو اور کسی کو نہیں میرے دل کو اس آرزو کی تکرار بے نہایت کرنے دے کسی چیز سے جب آدمی کا تعلق دل چسپی اور محبت کے درجہ کا ہو جائے تو ہاں تکرار کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔ پھر اس کی ہر تکرار آدمی کو نیا لطف دیتی ہے۔ اس کی تکرار سے آدمی کبھی نہیں اکتاتا۔ اس کی ایک عام مثال سگرٹ ہے۔ آدمی اسی سگرٹ کو بار بار پیتا ہے اور روزانہ پیتا رہتا ہے۔ مگر اس کو کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ وہ ایک چیز کی تکرار کر رہا ہے۔ حالاں کہ اسی شخص کو اگر کوئی غیر محبوب چیز دی جائے تو دو چار بار کے استعمال کے بعد وہ اس سے اکت جائے گا اور اس کو تکرار کر کے چھوڑ دے گا۔ میں نے کئی بار ایسے نوجوان دیکھے ہیں جنھوں نے ابھی کوئی پیکر دیکھی تھی۔ اگر چہ ان میں سے ہر ایک اس پیکر کو دیکھے ہوئے تھا مگر وہ اس کی کہانی اور اس کے مکالمے اس طرح ایک دوسرے کو سنا رہے تھے جیسے وہ کوئی نئی بات کہہ رہے ہوں۔ پیکر کے ساتھ ان کی بڑھی ہوئی دل چسپی نے ان کے لئے تکرار کا تصور حذف کر دیا تھا۔ جب کسی کے سامنے کوئی بات کہی جائے اور وہ اس کو "تکرار" کہہ کر بے لطف ہونے لگے تو سمجھ لیجیے کہ یہ بات اس کی زندگی میں دل چسپی بن کر داخل نہیں ہوئی ہے۔ اگر وہ اس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader