Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

لی حقیقی دل چسپی کی چیز ہوتی تو اس کی ہر تکرار اس کو نایب لطف دیتی نہ یہ کہ وہ اس کو بے لطف بنا دے۔ اندر رپورٹ ٹائمز آف انڈیا کے مغربی نمائندہ ہیں۔ انہوں نے مسٹر برمن کی کتاب (جنگ کی ہوائیں) کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پچھلے پورے سال یہ کتاب اٹلانٹک کے دونوں کناروں پر سب سے زیادہ بکنے والی کتابوں میں تقریباً سر فہرست رہی: All through the last year, Mr. Herman's work The Winds of War remained close to the top of the weekly list of best-sellers on both sides of the Atlantic. ”اٹلانٹک کے دونوں کناروں“ سے مراد یورپ اور امریکہ ہیں۔ یہ ایک خوب صورت ادبی اسلوب ہے۔ مگر یہ ادبی اسلوب واقعہ کی بنیاد پر بتا ہے ۔ اس کے بالمقابل خیالی ادب وہ ہے جس کے لئے واقعہ سے مطابقت ضروری نہیں۔ مثلاً شبنم ایک مادی واقعہ ہے۔ اس کا ایک مسلمہ طبعی مفہوم ہے۔ مگر شاعر عجیب اپنے خیالات کی دنیا میں ایک تصویر بنتا ہے تو اس کو اس سے بحث نہیں ہوتی کہ شبنم فی الواقع کس چیز کا نام ہے ۔ اگر وہ اپنے فرضی محبوب سے ملاقات کا ذکر کر رہا ہو تو وہ کہے گا: صبانے وہ نمک روکی ہے اعلان مسرت میں کہ ٹپکا ہے پسینہ جا بجا شبنم کی صورت میں اس کے برعکس اگر شاعر کے فرضی محبوب کا انتقال ہو جائے تو یہی شبنم "گریہ شبنم" میں ڈھل جائے گی ۔ اس وقت شاعر کو دکھائی دے گا گویا شبنم کے قطرے آسمان کے آنسو ہیں جو شدت غم کی وجہ سے اس کی آنکھوں سے نکل پڑے ہیں۔ امریکی خلا باز نیل آرمن اسٹرانگ نے ۱۹۶۹ میں جب پہلی بار چاند پر قدم رکھا تو ان کی زبان سے نکلا۔ یہ ایک آدمی کے لئے ایک چھوٹا قدم ہے مگر انسانیت کے لئے وہ ایک عظیم چھلانگ ہے: That's one small step for a man, one giant leap for mankind.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page