ڈائری
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ جملہ ایک عظیم سفر کے بعد نکلا۔ حقیقت یہ ہے کہ عظیم حالات ہی عظیم ادب کی تخلیق کرتے ہیں۔ جس آدمی نے بے شمار مراحل سے گزر کر ایسا قدم اٹھایا ہو جو نئی الواقح انسانیت کے لئے ایک چھلانگ بننے والا ہو وہی وہ شخص ہوتا ہے جس کے احساسات ان الفاظ میں ڈھل جائیں جس کا ایک نمونہ سٹرنیل آرم اسٹرانگ کے جملہ میں نظر آتا ہے۔ فرضی تخیل سے فرضی ادب پیدا ہوتا ہے اور حقیقی عمل سے حقیقی ادب۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فرضی ادب سے فرضی زندگی بنتی ہے اور حقیقی ادب سے حقیقی زندگی۔ ۶ مارچ ۱۹۸۳ سید جمال الدین افغانی (۱۸۳۹۔ ۱۸۳۸) نے کہا تھا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے اس پر اتفاق کر لیا ہے کہ وہ کبھی اتفاق نہیں کریں گے (اِتَّفَقُوا اَنْ لَّا یَتَّفِقُوا) اس قول کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ سید جمال الدین افغانی خود ایک اتفاق پسند آدمی تھے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جمال الدین افغانی جیسے لوگ ہی مسلمانوں کی بے اتفاقی کے اصل ذمہ دار ہیں۔ موجودہ زمانہ میں بے اتفاقی کی سب سے بڑی وجہ سیاست ہے۔ سیاسی طریقی عمل اختیار کرنے کی وجہ سے جمال الدین افغانی جیسے لوگوں کا کام اول دن سے عدم اتفاق سے شروع ہوا ۔ ان کے نظریہ کے مطابق اصلاح کا کام حکمرانوں کی تبدیلی سے شروع ہوتا تھا۔ چنانچہ اپنی تحریک کے آغاز ہی میں وہ اپنے ملک کے مسلم حکمرانوں سے ٹکرا گئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جمال الدین افغانی جس ملک میں گئے، یا ان کے جیسے لوگوں نے جس ملک میں کام شروع کیا وہاں علماً مسلمان دو طبقوں میں بٹ گئے۔ ایک حکمراں طبقہ اور اس کے موافقین، دوسرے انقلاب پسند طبقہ اور اس کے موافقین۔ اس طرح ہر ملک میں مسلمان دو طبقوں میں بٹ کر ایک دوسرے سے لڑنے لگے اور آج تک لڑ رہے ہیں۔ جمال الدین افغانی جیسے لوگ اگر یہ کہتے تو زیادہ صحیح تھا کہ ـــــ ہم نے اتفاق کر لیا ہے کہ ہم عدم اتفاق والی پائیسی پر چلیں گے۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں انسان آزاد ہے کہ جو چاہے بولے اور جس قسم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader