Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

کے الفاظ چاہیے اپنے منہ سے نکالے۔ مگر آخرت میں ایسا نہ ہو سکے گا۔ آخرت میں آدمی کی یہ آزادی اس سے چھین لی جائے گی۔ آخرت میں صرف وہی باتیں الفاظ کی صورت میں ڈھل سکیں گی جو صحیح ہوں، غلط باتوں کے لئے وہاں کسی کو الفاظ ہی نہیں ملیں گے۔ کس قدر عجیب ہوگی وہ دنیا جہاں آدمی کو صرف موقف حق کے لئے الفاظ ملیں، اور موقف غیر حق کے لئے الفاظ پانا کسی کے لئے نا ممکن ہو جائے۔ یہ بے بسی کی سخت ترین قسم ہے۔ مگر دنیا میں چوں کہ آدمی اس کا تجربہ نہیں کرتا اس لئے وہ اس کی سنگینی کو سمجھ نہیں پاتا۔ ۸ مارچ ۱۹۸۳ ایران کے شاہ محمد رضا پہلوی (۱۹۸۰ - ۱۹۱۹) کو اپنے اقتدار پر اتنا اعتماد تھا کہ انھوں نے اپنے لئے "شہنشاہ" کا لقب اختیار کیا۔ انھوں نے ابتدائی دو بیویوں کو صرف اس لئے طلاق دے دی کہ وہ ان کے لئے وارث سلطنت پیدا نہ کر سکیں۔ آخر میں انھوں نے تیسری بیوی فرح دیبا سے اکتوبر ۱۹۲۰ میں شادی کی۔ ان کے بطن سے ولی عہد رضا پیدا ہوئے۔ مگر اس کے بعد خودرشا کو سلطنت چھوڑ کر جلا وطن ہو جانا پڑا۔ مختلف اسباب کے تحت ایران میں خمینی انقلاب آیا۔ ۱۶ جنوری ۱۹۷۹ کو شاہ محمد رضا پہلوی ایران سے باہر جانے کے لئے اپنے خصوصی ہوائی جہاز میں داخل ہوئے تو وہ زار و قطار رو رہے تھے۔ اس کے بعد وہ مختلف ملکوں میں پھرتے رہے۔ یہاں تک کہ ۲۷ جولائی ۱۹۸۰ کو قاہرہ کے ایک اسپتال میں ان کا انتقال ہو گیا۔ موت کے وقت شاہ کی جو دولت بیرونی بینکوں میں جمع تھی وہ دس ہزار ملین پونڈ سے بھی زیادہ تھی (ہندوستان ٹائمز ۳۱ جولائی ۱۹۸۰) شاہ رضا اگر اس طرح سوچتے کہ سلطنت کھونے کے باوجود ابھی میرے پاس " ۱۰ ہزار ملین پونڈ موجود ہیں اور ان کے ذریعہ میں دوبارہ ایک نئی زندگی شروع کر سکتا ہوں تو وہ نئے عزم کے ساتھ ایک کامیاب زندگی حاصل کر سکتے تھے۔ مگر سلطنت کو کھونے کا غم ان پر اتنا زیادہ طاری ہو اک وہ عظیم خزانہ کا مالک ہونے کے باوجود بے ہمت ہو گئے اور بالآخر سخت مایوسی کے عالم میں مر گئے ۔ انسان کے لئے طاقت کا اصل سرچشمہ اس کی نفسیات ہے نہ کہ مادی وساتل۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page