Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

سجدہ ہے۔ ایک انسان جب اپنے آپ کو سجدہ کی حالت میں لے جاتا ہے اور اپنے پورے وجود کو جھکاتے ہوئے اپنا سر زمین پر رکھ دیتا ہے تو یہ اظہار عبدیت کا ایسا نمونہ ہوتا ہے جس کے آگے اس کا کوئی اور نمونہ ممکن نہیں۔ انسان کا سجدہ عبدیت کی آخری پرفیکٹ تصویر ہے۔ سجدہ کی یہ صورت اگرچہ خدا کی بتائی ہوئی ہے ، مگر وہ انسانی ارادہ سے عمل کی صورت اختیار کرتی ہے۔ اس اعتبار سے وہ انسانی واقعہ بن جاتی ہے۔ اسی لئے قرآن میں ہے : واسجد واقترب اور اسی لئے حدیث میں آیا ہے : اقرب ما يكون العبد من ربه وهو ساجد (بندہ سجدہ کے وقت اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے)، اسی مفہوم میں ایک قول یہ ہے : الصلاة معراج المؤمنين - ۱۱ مارچ ۱۹۸۳ء اسلام میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ کی مخلوق میں غور وفکر کرو ، اللہ کی ذات میں غور وفکر نہ کرو ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے (تفكّروا في خلق الله ولا تفكروا في ذات الله فتهلكوا)۔ اللہ کی مخلوق ہمارے معلوم دائرہ کی چیز ہے ، جب کہ اللہ کی ذات ہمارے معلوم دائرہ سے باہر کی چیز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کی مخلوق میں غور وفکر کرنے سے معرفت کی روشنی حاصل ہوتی ہے ۔ آدمی کے یقین میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ اللہ کی ذات میں خوض کرنے لگتے ہیں، ان کا خوض انہیں صرف تشکیک اور انتشار ذہنی تک پہنچاتا ہے۔ عقل مند شخص وہ ہے جو اپنی سوچ کو معلوم دائرہ تک محدود رکھے ، اور نادان وہ ہے جو معلوم دائرہ اور نامعلوم دائرہ کے فرق کو نہ سمجھے اور پہلے دائرہ میں چلتے ہوئے دوسرے دائرہ میں داخل ہو جائے ۔ ایسا شخص اپنے آپ کو فکری تباہی سے نہیں بچا سکتا۔ حدیث میں زبان کے غلط استعمال پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے اور زبان سے غلط لفظ نکالنے پر سخت مذمت کی گئی ہے۔ اس بنا پر اسلامی لٹریچر میں کثرت سے اس کا تذکرہ ملتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page