ڈائری
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے ۔ نظم اور نثر دونوں میں اس کے بارے میں کافی مواد موجود ہیں۔ یہاں میں صرف ایک عربی شعر نقل کرتا ہوں : احفظ لسانك ايها الحفـان لا يلدغنك انه ثعبان اے انسان ، اپنی زبان کی حفاظت کر ، وہ اثر دہا ہے کہیں تم کو ڈس نہ لے۔ مگر مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بہت کم لوگ ہیں جو واقعی معنوں میں سمجھتے ہوں کہ حفاظتِ زبان کے کیا معنی ہیں۔ بیشتر لوگ بس روایتی طور پر اس قسم کے ناصحانہ الفاظ بول دیتے ہیں، بغیر یہ جانے ہوئے کہ اس تعلیم کے حقیقی عملی تقاضے کیا ہیں۔ مثلاً ایک شخص کو اس کے عزیز کے بارے میں ایک لغو خبر دی جائے تو اس کا ذہن اس کی تحقیق میں لگ جائے گا ، وہ تحقیق کے بغیر کبھی اس کو ماننے پر راضی نہ ہوگا۔ مگر اسی آدمی کو اس کے مبغوض شخص کے بارے میں کوئی لغو خبر بتائی جائے تو اس کا ذہن بلا تحقیق اس کو قبول کرلے گا۔ چونکہ وہ مذکورہ شخص کو غلط سمجھتا ہے اس لئے اس کے بارے میں جب وہ کوئی بری خبر سنتا ہے تو اس کا ذہن شعوری یا غیر شعوری طور پر مان لیتا ہے کہ خبر صحیح ہوگی۔ اس معاملہ میں مجھے اکابر تک کے تجربے ہوئے ہیں ، مگر کسی کو میں نے اس کے بارہ میں محتاط نہیں پایا۔ ۱۳ مارچ ۱۹۸۳ 1913ء میں کانپور میں ایک سڑک کی توسیع کے سلسلہ میں محلہ مچھلی بازار کی مسجد کا اصل حصہ توڑ دیا گیا تھا۔ اس پر مسلمانوں نے زبردست ہنگامہ کیا۔ حکومت نے گولی چلائی اور کئی مسلمان ہلاک ہوگئے۔ بعد کو لا رڈ ہارڈنگ نے اس قضیہ کا فیصلہ کیا۔ مولانا سید سلیمان ندوی نے لکھا ہے کہ "امرتسر کے اجلاس کانگریس (1919ء) کے بعد گاندھی جی کے مشورہ پر مسلمانوں کا ایک وفد وائسرائے لار ڈ ہارڈنگ سے ملا۔ مولانا حسرت موہانی بھی اس وفد میں شریک تھے۔ مگر عرض معروض اور جواب کے بعد جب وائسرائے سے ہاتھ ملانے کا اعزازی لمحہ آیا تو حسرت چپکے سے اٹھ کر بے ہاتھ ہلائے کتر اکر اس طرح نکل گئے کہ کسی نے دیکھا بھی نہیں۔ مسلمان اپنے رہنماؤں کی اس طرح کی باتوں پر فخر کرتے ہیں، مگر مجھے تو یہ باتیں باعث شرم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader