Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 48

By Maulana Wahiduddin Khan

معلوم ہوتی ہیں۔ انگریز مسلمانوں کے لئے مدد کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر مسلمانوں نے ان کو صرف حریف اور رقیب، یا ظالم اور غاصب کی نظر سے دیکھا۔ اگر وہ ان کو دھو کہ سمجھتے تو وہ مسلم لیڈروں کے لئے محبت کا موضوع بنتے۔ مگر جب انھوں نے دوسری نظر سے دیکھا تو وہ ان کے لئے صرف نفرت کا موضوع بن کر رہ گئے۔ ۱۴ مارچ ۱۹۸۳ مکان کی پائیداری کی ضمانت پختہ اینٹیں ہوتی ہیں، اسی طرح قوم کی ترقی کی ضمانت یہ ہے کہ اس کے افراد جاندار ہوں۔ بے جان افراد کے اوپر کسی زندہ قوم کی تعمیر نہیں کی جاسکتی۔ میرے نزدیک مسلمان کا اصل مسئلہ وہ "خارجی سازشیں" نہیں ہیں جس کو لوگ نہایت اہتمام کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان آج بالکل بے جان ہو گئے ہیں۔ وہ اس قابل نہیں رہے کہ ان کی بنیاد پر کوئی مستحکم تعمیر قائم کی جا سکے۔ ۱۵ مارچ ۱۹۸۳ مدینہ کے منافقین بظاہر عام مسلمانوں کی طرح رہتے تھے، اس لئے ظاہری حالات کے اعتبار سے ان کو پہچاننا مشکل تھا۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایک منافق کا حال نام بہ نام معلوم تھا۔ مگر آپ نے ان کی بابت کسی کو نہیں بتایا۔ صرف ایک صحابی حذیفہ بن الیمان کو آپ نے ان منافقین سے باخبر کر دیا تھا۔ اسی لئے وہ امین سر رسول اللہ کہے جاتے تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اپنے بارے میں اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ ان میں سے نہ ہوں۔ چنانچہ آپ حذیفہ کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ میں تم کو خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام منافقین میں شمار کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ وقد خشی عمر رضی اللہ عنه عالى نفسه ان يكون منهم . فلما ۶ الى حذيفة يسأله قائلاً . سألتك بالله هل عدني رسول الله صلى الله عليه وسلم من المنافقين . فيقول له لا ) حضرت عمر کا یہ واقعہ ان کے کمال ایمان کی دلیل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ عبدیت کے احساس اور عظمت خداوندی کے ادراک کا آخری درجہ ہے، جس سے آگے کوئی اور ایمانی درجہ نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page