Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 49

By Maulana Wahiduddin Khan

عربی میں گھوڑے کو فرس کہتے ہیں۔ گھوڑے کی سواری میں مہارت کو فروسیہ کہا جاتا ہے۔ ایک عربی کتاب میں حسب ذیل عبارت نظر سے گزری: للفروسية اربعة انواع: ركوب الخيل والكر والفر۔ وركوب الخيل بالقوس۔ وركوب الخيل المطاعنة بالرماح۔ وركوب الخيل والمبارزة بالسيف۔ یعنی خالی گھوڑا دوڑانا۔ گھوڑے پر سوار ہو کر تیر اندازی کرنا۔ گھوڑے پر سوار ہو کر نیزہ مارنا۔ گھوڑے پر سوار ہو کر تلوار چلانا۔ کہا جاتا ہے کہ خالد بن الولید اور ابو بکر صدیق اور حمزہ بن عبد المطلب ان چاروں اقسام کے ماہر تھے۔ قدیم زمانہ میں فروسیہ کی بڑی اہمیت تھی۔ اسی بنا پر قرآن میں کہا گیا کہ : واعد وا لهم ما استطعتم من قوة ومن رباط الخيل (الانفال)۔ لیکن آج اگر کوئی شخص اس کو فقط معنی میں لے کر فروسیہ کی تبلیغ کرنے لگے تو یہ شریعت اسلامی کی روح سے نا واقفیت کی دلیل ہوگی۔ ۱۷ مارچ ۱۹۸۳ مجھے اسلامی تاریخ کے چند لمحات بہت ہی نادر معلوم ہوتے ہیں۔ ان لمحات میں جو کلمات کہے گئے ، اس سطح کے کلمات دوبارہ تاریخ میں کہے نہ جا سکے۔ پہلا لمحہ خود پیغمبر اسلام کی ذات سے متعلق ہے۔ ہجرت کے وقت جب آپ غار ثور میں چھپے ہوئے تھے۔ آپ کے دشمن وہاں بھی تلوار لئے ہوئے پہنچ گئے۔ ابو بکر صدیق نے اندیشہ ناک لہجہ میں کہا کہ وہ تو یہاں بھی آگئے۔ آپ نے فرمایا: یا ابا بکر ما ظنّك باثنين الله ثالثهما ــــ یہ نصرت خداوندی پر کامل یقین کا کلمہ ہے۔ دوسرا لمحہ وہ ہے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی۔ تمام لوگ سراسیمہ تھے۔ اس وقت ابو بکر صدیق آتے ہیں۔ آپ کے اوپر سے چادر اٹھا کر دیکھتے ہیں اور پھر مسجد نبوی میں جا کر کہتے ہیں : من كان يعبد محمّداً فإن محمّداً قد مات ومن كان يعبد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page