ڈائری
Urdu book, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
مجھ پر ایک تجربہ گزرا ، اس کے بعد شدید تاثر کے تحت یہ الفاظ میری زبان پر آگئے ۔ حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف جو اشعار منسوب ہیں ، ان میں سے دو شعر یہ ہیں : يفوص البحر من طلب اللآلی ومن طلب العلى سهر الليالی ومن طلب العلى من غير كد اضاع العمر في طلب المحال ترجمہ : جو شخص موتی چاہتا ہے وہ سمندر میں غوطہ لگاتا ہے اور جو شخص بلندی چاہتا ہے وہ راتوں کو جاگتا ہے ۔ اور جو شخص محنت کے بغیر بلند مقام چاہے ، اس نے ناممکن کی طلب میں اپنی عمر ضائع کردی۔ آدمی اس دنیا میں جو کچھ پاتا ہے اپنے اس استحقاق کی بنیاد پر پاتا ہے جو اس نے محنت اور جد وجہد کے ذریعہ اپنے حق میں فراہم کیا ہو۔ صحابہ کرام اس بات کو چودہ سو سال پہلے جان چکے تھے ۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمان جس طرح مطالبہ اور احتجاج کی سیاست میں مشغول ہیں ، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ چودہ سو سال بعد بھی وہ اس حقیقت سے واقف نہ ہوسکے۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ جو شخص قیمتی موتی کا طلب گار ہو تو وہ ساحل پر اپنی مطلوبہ چیز کو نہیں پا سکتا۔ اس کو اپنا مطلوب پانے کے لئے سمندر کی گہرائیوں میں اترنا پڑے گا۔ اسی طرح جو شخص چاہتا ہو کہ اسے زندگی میں عزت اور بڑائی کا درجہ ملے تو اسے راتوں کو جاگنا پڑے گا۔ یعنی صرف دن کی محنت اس کے لئے کافی نہیں ہوگی ، وہ راتوں کو بھی محنت کرے گا۔ اس کو اس وقت عمل کرنا ہو گا جب کہ دوسرے لوگ آرام کر رہے ہوں۔ زیادہ محنت ہی کے ذریعہ اس دنیا میں کوئی شخص زیادہ بڑا درجہ پا سکتا ہے ۔ جو شخص محنت اور مشقت کے بغیر بڑائی حاصل کرنا چاہے وہ اپنا وقت اور اپنی طاقت کو ضائع کر رہا ہے ۔ کیونکہ کسی اور تند بہرے بس دنیا میں کسی کو بٹائی ملنے والی نہیں۔ ۶ جنوری ۱۹۸۳ صحابہ کا طریقہ یہ تھا کہ ان سے اگر کوئی شخص کسی صورت حال کے بارہ میں فتویٰ پوچھتا تو وہ سائل سے پوچھتے کہ کیا ایسی صورت واقعۂ پیش آئی ہے۔ اگر وہ کہتا کہ نہیں تو صحابہ کہتے کہ پھر ایسے معاملہ کے لئے فتوی مت پوچھو۔ مگر بعد کو آنے والے فقہا اس احتیاط کو ملحوظ نہ رکھ سکے۔ انھوں نے بلاقید مفروضہ مسائل پر فتویٰ دینا شروع کر دیا۔ اس طرح کتابوں میں کثرت سے ایسے مسائل جمع ہو گئے جو محض فرضی تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader