Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ فأن اللہ حیی لایموت ــ یہ خدا اور بندہ کو فرق کرنے کے دیکھنے کا کلمہ ہے۔ تیسرا لمحہ وہ ہے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت عمر فاروق سخت جذبہ میں آجاتے ہیں۔ وہ اس کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں کہ رسول اللہ کی وفات ہوگئی ہے۔ وہ مسجد نبوی میں تلوار لئے ہوئے کھڑے ہیں کہ ابو بکر صدیق مسجد کے اندر داخل ہوتے ہیں۔ وہ عمر کو منع کرتے ہیں مگر جب وہ نہیں مانتے ہیں تو الگ ہٹ کر تقریر شروع کر دیتے ہیں اور اس میں قرآن کی آیت ) پڑھتے ہیں۔ اس آیت کو سنتے ہی عمر فاروق بالکل ڈھڑھ پڑتے ہیں۔ انھوں نے خود اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا : وقعت علی الارض و ما تحملنی رجلای ــ یہ حق کے اعتراف کا کلمہ ہے خواہ وہ خواہ وہ اپنی مرضی کے خلاف کیوں نہ ہو۔ چوتھا لمحہ وہ ہے جس کا تعلق پانچویں خلیفہ راشد عمر بن عبدالعزیز سے ہے۔ ان کے ایک عامل جراح بن عبد اللہ نے کہا کہ اسلام قبول کرنے والوں کی حوصلہ افزائی نہ کرنا چاہئے۔ کیوں کہ بہت بڑی تعداد میں لوگ مسلمان ہوگئے تو جزیہ کی رقم کم ہو جائے گی اور سرکاری مالیات پر زبر دست اثر پڑے گا۔ عمر بن عبدالعزیز نے جواب دیا: ویحك ان محمداً بعث هاديا ولم يبعث جابیا ــ یہ دعوتی شعور اور پیغمبرانہ مشن کی معرفت کا کلمہ ہے۔ ۱۸ مارچ ۱۹۸۳ عن أم سلمة رضى الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا خرج من بيته قال: بسم الله توكلت على الله ، اللهم انى اعوذ بك أن أضِلّ أو أضَلَّ ، أو أظلِمَ أو أُظْلَمَ ، أو أجهَلَ أو يُجْهَلَ عَلَى حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر سے نکلتے تھے تو اس طرح فرماتے تھے۔ شروع اللہ کے نام سے ، میں نے اللہ پر بھروسہ کیا۔ اے اللہ میں تجھ سے پناہ چاہتا ہوں کہ میں گمراہ کروں یا گمراہ کیا جاؤں۔ میں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے۔ میں جہالت کروں یا مجھ پر جہالت کی جائے (ابو داؤد، ابن ماجہ) مشکوٰۃ جز ثانی، صفحہ ۵۵۔ یہ محض ایک لفظی دعا نہیں ہے۔ یہ الفاظ یہ بتاتے ہیں کہ آپ جب گھر سے باہر سر نکلتے تھے توکن احساسات اور کیفیات کے ساتھ نکلتے تھے۔ یہ انسانار اصل اس ذہنی حالت کا خارجی اظہار میں جو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page