ڈائری
Urdu book, p. 51
By Maulana Wahiduddin Khan
اس وقت آپ کے اوپر چھائی ہوئی ہوتی تھی۔ اور آپ کے سینہ میں منڈ رہی ہوتی تھی۔ فتح مکہ کے بعد مختلف قبائل عرب کے وفود مدینہ آئے۔ انھیں میں سے ایک وفد قبیلہ ثقیف کا تھا۔ یہ لوگ اس وقت مشرک اور کافر تھے۔ جب وہ مدینہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مسجد نبوی میں اتارا اور مسجد کے اندر ہی ان کا خیمہ لگایا گیا تا کہ وہ قرآن کو سنیں اور لوگوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھیں (وانزل رسول الله صلی الله علیه وسلم وفد ثقیف في المسجد وبنى لهم خیاما لكى يسمعوا القرآن ویمر والناس اذا اصلوا ، زاد المعاد لابن قيم، الجزء الثالث، صفحه (۲۹) یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ اسلام کی دعوت کی روح پوری طرح زندہ تھی۔ اب موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ مسجد میں غیر مسلموں کا داخلہ پسند نہیں کرتے۔ اور اگر کوئی غیر مسلم اتفاق سے مسجد کے اندر آ جائے تو نماز کے وقت اس کو باہر کر دیتے ہیں۔ کتنا فرق ہے کل میں اور آج میں۔ بعد کا اضافہ : نومبر، ۱۹۸۷ میں ہندوستانی وزیر اعظم راجیو گاندھی کٹھمنڈو (نیپال) گئے۔ ان کی اہلیہ سونیا بھی ان کے ساتھ تھیں۔ کٹھمنڈو میں قیام کے دوران دونوں نے وہاں کے ایک ہندو مندر میں جانے کی خواہش ظاہر کی۔ مندر کے پجاریوں نے مسز سونیا کو اس لئے مندر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی کہ وہ عیسائی ہیں، اور مذکورہ مندر میں کسی غیر ہندو کو داخلہ کی اجازت نہیں۔ اس مندر کا نام پشوپتی مندر ہے۔ حکومت نیپال کے افسروں نے اس سلسلہ میں مذکورہ مندر کے ذمہ داروں سے رابطہ قائم کیا۔ مگر وہ آمادہ نہیں ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ راجیو اکیلے مندر میں آسکتے ہیں۔ مگر مسز سونیا کو داخلہ کی اجازت نہیں، کیوں کہ وہ بنیادی طور غیر ہندو ہیں۔ اس سے پہلے اٹلی کے ایک مشہور مندر میں مسز اندر را گاندھی کو محض اس بنا پر داخلہ کی اجازت نہیں ملی تھی کہ انھوں نے ایک غیر ہندو سے شادی کی ہے۔ (نئی دنیا ۳۰ نومبر ۱۹۸۷) اسی ہندو روایت کے زیر اثر ہندوستان کے مسلمانوں میں یہ مزاج پیدا ہو گیا ہے کہ وہ غیر مسلموں کا داخلہ مسجد کے اندر پسند نہیں کرتے۔ حالانکہ ہندوستان اور پاکستان کے علاوہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader